اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 28
28 ۱۴۔منقول ہے کہ ایک مرقع پوش ہوا سے اترا۔آپ کے سامنے زمین پر پاؤں مارنے لگا اور کہنے لگا۔کہ میں جنید وقت ہوں۔میں شبلی وقت ہوں۔میں بایزید وقت ہوں۔آپ بھی اٹھ کر رقص کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ میں خدائے وقت ہوں۔مصطفے وقت ہوں۔اس کے معنی وہی ہیں جو ہم حسین منصور کے حال میں انا الحق کے معنی بیان کر چکے ہیں کہ وہ محو تھا ہے“ ترجمه کتاب تذکرة الاولیاء صفحہ 515) مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں با آسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قدوة السالكين زبدة العارفین حضرت شیخ فریدالدین عطارحمۃ اللہ علیہ کی کتاب تذکرۃ الاولیاء کو کس بے دردی سے حذف و تنسیخ کا تختہ مشق بنایا گیا ہے۔الاربعین فی احوال المهديين مجد د سیز دہم حضرت سید احمد بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید خاص حضرت شاہ اسماعیل شہید ( شہادت 1246ھ 1831ء) کی ایک کتاب الاربعین فی احوال المہدین بھی ہے جو پہلی بار ۲۵ محرم الحرام 1268ھ بمطابق ۲۱ نومبر 1851ء کو مصری گنج کلکتہ سے شائع ہوئی۔اس کتاب کے آخر میں چھٹی صدی ہجری کے نواح دہلی کے صوفی مرتاض اور دلی کامل حضرت نعمت اللہ ولی عطا رحمتہ اللہ علیہ کا ظہور مہدی موعود سے متعلق اصلی قصیدہ بھی شامل تھا۔یہ قصیدہ بچپن اشعار پر مشتمل تھا۔ا حضرت ابوالحسن خرقائی ہے تذکرۃ الاولیاء فارسی مطبوعہ 1306 صفحہ 335 علاوہ ازیں اس کے 118 ، 272،406،334،217 صفحات میں سے بھی بعض واقعات حذف کر دیئے گئے ہیں )