اسلامی جہاد کی حقیقت

by Other Authors

Page 2 of 17

اسلامی جہاد کی حقیقت — Page 2

آپ نے سماعت فرمائیں اُن کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ( اور اے مسلمان) تو انکار کرنے والوں کی بات نہ مان اور اس (قرآن) کے ذریعہ ان سے بڑا جہاد کر۔دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں کیوں کہ ہدایت و گمراہی کا باہمی فرق خوب ظاہر ہو چکا ہے۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تجھے دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔اسلام جارحیت اور کسی پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ صرف اپنے دفاع کی اجازت دیتا ہے وہ بھی اس صورت میں جب کہ دشمن مسلمانوں پر حملہ کرنے میں پہل کرے اور مسلمان مظلوم ہوں (جیسا کہ فرمایاوَهُمْ بَدَهُ وَ كُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ التو : ۱۳ - بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا الج:۴۰) یہ صرف نظریہ اور دعویٰ ہی نہیں بلکہ سید نا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ ہمارے لئے ایک اسوہ اور نمونہ بنائے گئے تھے، انہوں نے اس پر عمل کر کے مسلمانوں کو سمجھایا کہ اُن کو اپنا دفاع ویسی حالت میں کرنا ہے جس حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ۱۹ اپریل اے ھ ء کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے تھے۔اور جب آپ کی عمر قمری لحاظ سے چالیس سال کی ہوئی تو ۲۰ اگست ۱۰ ء کو آپ پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔اور اس کے ساتھ ہی اسلام کی بنیاد رکھی گئی۔اس کے بعد اہل مکہ کی طرف سے آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر مظالم کا سلسلہ شروع ہوا۔جو دن بدن بڑھتا چلا گیا۔جو لوگ آپ کے پڑوس میں رہتے تھے اُن کا معمول تھا کہ آپ کے گھر میں پتھر پھینکتے دروازوں پر کانٹے ڈال دیتے۔ایک دفعہ جب آپ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے تو عقبہ بن ابی معیط نے آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر اسقدر دبایا کہ آپ کا دم گھٹنے لگا۔حضرت ابو بکر کو علم ہوا تو دوڑتے ہوئے آئے اور آپ کو اس بدبخت کے شر سے بچایا۔اور ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اور جب آپ سجدہ میں تھے آپ پر اونٹنی کی غلیظ بچہ دانی لا