اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 42

آزادی تقریر کا مخالف ہو۔اس کے برعکس اسلام آزادی اظہار کے اصول کی جس دلیری اور جرات کے ساتھ حمایت کرتا ہے اس کی مثال کسی اور نظریاتی نظام یا مذہب میں دور دور تک نظر نہیں آتی۔مثلاً قرآن کریم اعلان کرتا ہے۔وہ وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصْرَى تِلْكَ آمَانِيُّهُمْ قُلْ هَاتُو ا برهانكم إن كنتم صدقينO ا (سورۃ البقرہ آیت ۱۱۲) ترجمہ۔اور وہ کہتے ہیں کہ ہر گز جنت میں داخل نہیں ہوگا سوائے ان کے جو یہودی یا عیسائی ہوں۔یہ محض ان کی خواہشات ہیں۔تو کہہ کہ اپنی کوئی مضبوط دلیل تو لا ؤ اگر تم سچے ہو۔پھر ایک جگہ فرمایا : امِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ هَذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ ووه لاه وه ده و ه - قَبْلِي بَلْ أَكْثَرَهُمْ لا يَعْلَمُونَ الْحَقَّ فَهُم مَعْرِضُونَ (سورۃ الانبیاء آیت ۲۵) ترجمہ۔کیا انہوں نے اس کے سوا کوئی معبود بنا رکھے ہیں۔تو کہہ دے کہ اپنی قطعی دلیل لاؤ۔یہ ذکر ان کا ہے جو میرے ساتھ ہیں اور ان کا ذکر ہے جو مجھ سے پہلے تھے۔لیکن ان میں سے اکثر لوگ حق کا علم نہیں رکھتے اور وہ اعراض کرنے والے ہیں۔قرآن مجید میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ( سورة القصص آیت ۷۶ ) وَنَزَعْنَا مِنْ كُلَّ أُمَّةٍ شَهِيدًا فَقُلْنَا هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوا أَنَّ الْحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ ترجمہ۔اور ہم ہر امت سے ایک گواہ نکال لائیں گے اور کہیں گے کہ اپنی برہان لاؤ۔پس وہ جان لیں گے کہ حق اللہ کے اختیار میں ہے اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا۔42