اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 38

اس مضمون کے سلسلے میں مزید وضاحت فرماتے ہوئے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر یاد دلایا جا رہا ہے۔فرمایا: فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا أَرْسَلْنَكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَلْغُ (سورۃ الشوریٰ آیت ۴۹) ترجمہ۔پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر پاسبان بنا کر نہیں بھیجا۔تجھ پر پیغام پہنچانے کے سوا اور کچھ فرض نہیں۔ایسے نظریات کی تبلیغ سے اگر کوئی تنازعہ اٹھ کھڑا ہو اور فریق مخالف تشدد پر اتر آئے تو ایسی صورت میں اسلام کا تاکیدی حکم ہے کہ مسلمان تحمل اور برداشت سے کام لیں۔صبر و استقامت کا نمونہ دکھا ئیں اور جہاں تک ممکن ہو تصادم اور لڑائی جھگڑے سے بچنے کی پوری کوشش کریں۔یہی وجہ ہے کہ جہاں مسلمانوں کو دنیا بھر میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے وہاں ساتھ ہی ان کو ایک واضح اور معین ضابطہ اخلاق بھی عطا کیا گیا ہے۔اس موضوع سے متعلق قرآن کریم میں بہت سی آیات ہیں جن میں سے چند ایک اس مضمون کی وضاحت کے لئے پیش کی جارہی ہیں۔ط أدْعُ إِلى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَدِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِين ( سورۃ النحل آیت ۱۲۶) ترجمہ۔اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔یقینا تیرا رب ہی اسے جو اس کے راستے سے بھٹک چکا ہو سب سے زیادہ جانتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کا بھی سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔38