اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 282
پائیں اور کامل فرمانبرداری اختیار کریں۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءِ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْفَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا ج الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا : وَإِنْ تَلُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (سورۃ النساء آیت ۱۳۶) ترجمہ:۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔خواہ کوئی امیر ہو یا غریب دونوں کا اللہ ہی نگہبان ہے۔پس اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا عدل سے گریز کرو۔اور اگر تم نے گول مول بات کی یا پہلو تہی کر گئے تو یقیناً اللہ جو تم کرتے ہو اس سے بہت باخبر ہے۔ہے۔احادیث مبارکہ میں اس موضوع پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی گئی حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہر حاکم اور صاحب امر اللہ تعالیٰ کے حضور براہ راست اس بات کا جوابدہ ہے کہ وہ اپنی رعایا اور ماتحتوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔چونکہ اس موضوع پر سیر حاصل بحث ہو چکی ہے اس لئے اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس بحث کا لب لباب یہ ہے کہ اسلام ایک ایسی کامل اور غیر جانبدار مرکزی حکومت کا تصور پیش کرتا ہے جس میں ریاست کے شہری ہونے کے لحاظ سے سب برابر ہوں اور سب پر قوانین کا یکساں اطلاق ہو اور مذہبی اختلافات کا امور سلطنت میں کوئی عمل دخل نہ ہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام مسلمانوں کو خبر دار کرتا ہے کہ وہ دنیوی معاملات میں رائج الوقت قانون کی اتباع کریں۔چنانچہ فرماتا ہے: 282