اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 269 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 269

پاس ایک امانت ہے اور ایک امین کی حیثیت سے اسے چاہئے کہ وہ یہ امانت پورے انصاف کے ساتھ واپس لوٹائے یعنی اپنا ووٹ اس شخص کو دے جو اس کا سب سے زیادہ اہل ہے۔ووٹ دینے والے کو اس بات سے خوب اچھی طرح آگاہ ہونا چاہئے کہ وہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کا جوابدہ ہو گا۔اس اسلامی تصور کے مطابق اگر کسی سیاسی پارٹی کارکن اپنی ہی پارٹی کے نامزد امیدوار کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس قومی ذمہ داری کا اہل ثابت نہیں ہوگا تو اسے چاہئے کہ ایسے شخص کے حق میں ووٹ دینے کی بجائے ایسی پارٹی سے الگ ہو جائے۔پارٹی کے ساتھ وفاداری حق رائے دہی کے آزادانہ استعمال میں روک نہیں بننی چاہئے۔یہ بھی ضروری ہے کہ ہر ووٹر الیکشن کے دوران اپنا ووٹ ضرور استعمال کرے سوائے اس کے کہ وہ بامر مجبوری ایسا کرنے سے قاصر ہو۔اگر ووٹر اپنا ووٹ استعمال نہیں کرتا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ امانت کا حق ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ امریکہ میں قریباً آدھے ووٹر اپنا ووٹ استعمال کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے۔اسلام کے نظریہ جمہوریت میں اپنے ووٹ کے عدم استعمال کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اسلامی حکومت کیا ہے؟ آج کے مسلمان سیاسی مفکرین کو یہ دعوی کرنے کا بڑا شوق ہے کہ اسلام جمہوریت کا دوسرا نام ہے۔ان کے سیاسی فلسفہ کے مطابق آخری اختیار چونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس لئے حاکمیت اعلیٰ بھی اسی کو حاصل ہے۔قرآن کریم 269