اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 11
ایسے تھے جن کا ہم نے تجھ سے ذکر نہیں کیا۔پھر قرآن مجید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے۔28 0 إِنْ أَنْتَ إِلَّا نَذِيرٌهِ إِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَّ نَذِيرًا وَإِنْ مِنْ 280 أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ (سورة فاطر آیات ۲۴ تا ۲۵) ترجمہ۔تو تو محض ایک ڈرانے والا ہے۔یقینا ہم نے تجھے حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔اور کوئی امت نہیں مگر ضرور اس میں کوئی ڈرانے والا گزرا ہے۔قرآن مجید کی ان آیات سے خوب واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کو یکسر نظر انداز کر کے صداقت پر اپنی اجارہ داری کا ہرگز دعوی نہیں کرتا بلکہ واضح اور معین طور پر یہ اعلان کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کے سب خطوں اور سب زمانوں میں اپنے رسول مبعوث فرمائے ہیں تاکہ بنی نوع انسان کی مذہبی اور روحانی ضروریات پوری ہوسکیں۔چنانچہ یہ رسول اپنی اپنی قوموں تک خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے ہیں۔بلحاظ منصب تمام انبیاء برابر ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تمام بنی نوع انسان کی اصلاح کے لئے مختلف زمانوں اور علاقوں میں جو انبیاء تشریف لاتے رہے ہیں کیا وہ اپنے منصب کے لحاظ سے برابر ہیں؟ قرآن مجید کی رو سے تمام انبیا ء خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی آتے رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کے احکامات کو نافذ کرنے کا جو اختیار انہیں حاصل ہوتا ہے سب انبیاء اسے پوری مضبوطی اور یقین کے ساتھ یکساں استعمال کرتے ہیں۔کسی انسان کو یہ حق 11