اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 144

مختلف عورتوں سے (تمسخر کریں)۔ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہو جائیں۔اور اپنے لوگوں پر عیب مت لگایا کرو اور ایک دوسرے کو نام بگاڑ کر نہ پکارا کرو۔ایمان کے بعد فسوق کا داغ لگ جانا بہت بری بات ہے۔اور جس نے تو بہ نہ کی تو یہی وہ لوگ ہیں جو ظالم ہیں۔سطحی نظر سے دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے موجودہ معاشرہ رنگ ونسل کے امتیاز سے دور ہٹتا چلا جا رہا ہے اور نسل پرستی کے خلاف دنیا کا ضمیر بیدار ہو رہا ہے لیکن اگر اس مسئلہ کا زیادہ قریب سے اور گہرائی میں جا کر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ نسل پرستی کی لعنت آج بھی دنیا میں جگہ جگہ بدستور موجود ہے۔مشکل یہ ہے که نسل پرستی کی کوئی ایک جامع تعریف نہیں کی جاسکتی۔مختلف تناظر میں یہ تعریف دکھائی دینے لگتی ہے۔نسلی عصبیت، ذات پات، مذہبی برتری کا احساس، قبائلی تفاخر، فسطائیت، سامراجیت اور قوم پرستی میں حد فاصل کی تعیین مشکل ہے۔مغربی یورپ میں عیسائیوں نے ایک ہزار سال یہود کے ساتھ انتہائی ظالمانہ اور غیرانسانی سلوک روا رکھا ہے۔ماضی کی یہ تکلیف دہ داستان بھول بھی جائیں تو نازیوں کا یہود کے ساتھ وہ بہیمانہ سلوک کیسے بھلایا جا سکتا ہے جو انہوں نے اس صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں کیا۔یہی وجہ ہے کہ نسل پرستی کا لفظ سنتے ہی بے اختیار ہمارا ذہن یہود پر توڑے جانے والے مظالم کی طویل تاریخ کی جانب منتقل ہو جاتا ہے۔لیکن یہود کے ساتھ ہونے والے مظالم نسلی عصبیت کی پوری تصویر پیش نہیں کرتے بلکہ اس تناظر میں کئی پہلو ہیں جو یکسر نظر سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ہمیں کبھی ان انتہا پرست یہود کا خیال تک نہیں آتا جو غیر یہودی اقوام کے ساتھ اسی قسم کی خوفناک عصبیت کا مظاہرہ کرتے ہیں جس کا وہ خود نشانہ بنتے رہے ہیں۔اور یہ داستان یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔نسلی عصبیت کے کئی ایسے روپ بھی ہیں جو 144