اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 110
فارغ وقت ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنے گھر اور آنے والی نسلوں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکے۔عورتوں کے لئے مساوی حقوق آج کل آزادی نسواں اور حقوق نسواں وغیرہ کا بہت چرچا ہے۔اسلام اس کے متعلق ایک ایسا جامع اور بنیادی اصول بیان کرتا ہے جو اس مسئلہ کے تمام ممکنہ پہلوؤں پر حاوی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔280 وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ، وَاللَّهُ عَزِيزٌ حکیم (سورۃ البقره آیت ۲۲۹) ترجمہ۔اور ان (عورتوں) کا دستور کے مطابق ( مردوں پر ) اتنا ہی حق ہے جتنا (مردوں کا) ان پر ہے۔حالانکہ مردوں کو ان پر ایک قسم کی فوقیت بھی ہے۔اور اللہ کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔قرآن کریم ایک اور آیت میں فرماتا ہے: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهم (سورۃ النساء آیت ۳۵) ترجمہ۔مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر بخشی ہے۔اور اس وجہ سے بھی کہ وہ اپنے اموال (ان پر ) خرچ کرتے ہیں۔اس آیت میں عربی لفظ قوام کے معنی نگر ان کے ہیں جو اپنے زیر نگرانی افراد کو صحیح رستہ پر چلانے کا ذمہ دار ہو۔لیکن دقیا نوسی ذہنیت رکھنے والے علماء لفظ قوام 110