اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 85
اور دیکھنے والی آنکھ کو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ نئی نسل اس رستہ پر چل نکلی ہے۔تہذیب اور روایت سے بغاوت کے نتیجہ میں ممکن ہے کہ ہر چیز کلیتہ تو مسترد نہ کی جا سکے اس سمت میں سفر شروع ہو چکا ہے۔معاشرہ سے آزاد اور بے پرواہ زندگی اذیت رسانی میں لذت محسوس کرنا ، یہی ازم، جنسی تشدد اور حیوانات کی مانند جنسی خواہشات کی تکمیل کا جنون چند ایک ایسی مثالیں ہیں جو مذکورہ بالا رجحانات کا پستہ دے رہی ہیں۔جو شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ نئی نسل کس سمت میں دوڑی چلی جا رہی ہے اسے جی کڑا کر کے ان باغی پراگندہ حال میلے کچیلے لڑکے لڑکیوں کو جا کر دیکھنے کی ہمت کرنی چاہئے جو ریوڑوں اور گروہوں کی شکل میں اکٹھے رہتے ہیں۔وہاں جا کر معلوم ہوتا ہے کہ اب نفاست اور خوشبو کی جگہ غلاظت اور عفونت لے چکی ہے۔بے داغ اور صاف ستھرے لباس کی بجائے اب پھٹے پرانے بوسیدہ چیتھڑے فیشن کا نشان بن گئے ہیں۔وہ دن گئے جب لباس پر ایک معمولی سا داغ بھی بے حد خفت کا باعث ہوا کرتا تھا۔اب تو پھٹی پرانی جینز (Jeans) بلکہ جسم کے بعض حصوں کی ایک جھلک دکھانے کے لئے خاص طور پر پھاڑی گئی پتلونیں ایک نئی پتلون سے کہیں زیادہ قیمتی سمجھی جاتی ہیں۔یہ صحیح ہے کہ ماضی کے روایتی ورثہ سے بے زاری کی یہ انتہائی علامات سارے معاشرہ میں دکھائی نہیں دیتیں لیکن بیماری کا آغاز ہو تو ضروری نہیں کہ سارا بدن فوراً ہی اس سے متاثر ہو جائے تا ہم جسم پر کہیں کہیں ظاہر ہونے والے ناسور بیمار کی حالت کا پتہ ضرور دیا کرتے ہیں۔جب ایک معاشرہ بیمار ہونے لگتا ہے تو غیر ذمہ دارانہ رویے بھی سر اٹھانے لگتے ہیں۔نظم وضبط کا فقدان اور فساد کا دور دورہ ہو جاتا ہے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انحطاط اور زوال کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔85