اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 24
گے۔عیسائیت کا نظریہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔میرے علم میں کوئی مذہب ایسا نہیں جو اس سے مختلف نظریہ پیش کرتا ہو۔لیکن میں اپنے سامعین کرام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اسلام کی طرف ایسے کڑر نظریہ کو منسوب کرنے کا ہرگز کوئی جواز موجود نہیں۔قرآن کریم اس ضمن میں یکسر مختلف نظریہ پیش کرتا ہے۔قرآن کریم کی رو سے نجات پر کسی ایک مذہب کی اجارہ داری نہیں۔وہ لوگ جنہیں اپنے آباؤ اجداد سے غلط نظریات ورثہ میں ملے ہیں مگر وہ عام طور پر سچائی اور خلوص کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ نجات سے محروم نہیں کئے جا سکتے۔اسی طرح وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ کی نئی شریعت کا علم ہی نہیں ہوا اور وہ جانتے ہی نہیں کہ ہدایت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے ان پر بھی نجات کا دروازہ بند نہیں ہوگا بشرطیکہ ان کی لاعلمی اپنی کوتا ہی یا غلطی کے باعث نہ ہو۔نجات سے متعلق اس نکتہ کی وضاحت قرآن کریم کی یہ آیت کرتی ہے: لِكُلّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلا يُنَا زِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُّسْتَقِيمٍ (سورۃ الحج آیت ۶۸) ترجمہ۔ہر ملت کے لئے ہم نے قربانی کا طریق مقرر کیا ہے جس کے مطابق وہ قربانی کرتے ہیں۔پس وہ اس بارہ میں تجھ سے ہر گز کوئی جھگڑا نہ کریں اور تو اپنے رب کی طرف بلا۔یقینا تو ہدایت کی سیدھی راہ پر گامزن) ہے۔پھر اس مضمون کے تعلق میں ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِيْنَ هَادُوا وَالصَّبِئُونَ وَالنَّصْرِى مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ (سورة المائدہ آیت ۷۰) 24