اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 235

اس طویل سفر میں صرف دولت کی تقسیم ہی اثر انداز نہیں ہوئی بلکہ کئی سماجی ، مذہبی اور سیاسی عوامل بھی کار فرما رہے ہیں۔بیرونی حملہ آوروں کا ایک طویل سلسلہ اندرونی کشمکش، زندگی کی جدو جہد اور اپنا تسلط قائم کرنے کی کوششیں بھارت میں پائے جانے والے ذات پات کے اس نظام کے پس منظر میں آج بھی صاف دکھائی دے رہی ہیں۔اور دراصل یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے بھارت میں اتنے طبقات کو جنم دیا ہے۔کارل مارکس نے اس صورت حال کو گہری نظر سے دیکھا ہے۔نیو یارک کے اخبار ہیرلڈ ٹریبیون (Herald Tribune) میں شائع ہونے والے خطوط میں وہ ہندوستان کی معاشرتی صورت حال کو سائنٹیفک سوشلزم کے فلسفہ سے ہم آہنگ خیال نہیں کرتا۔اس نے بالآخر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ذات پات کے اس نظام کی موجودگی میں ہندوستان کے متعلق غالب امکان یہی ہے کہ وہ اشتراکیت کی جانب کبھی رخ نہیں کر سکے گا۔اسلامی نقطہ نظر کے مطابق معاشرہ میں طبقات کی موجودگی اس وقت تکلیف دہ صورت حال پیدا کر دیتی ہے جب دولت کے خرچ کے متعلق کوئی ضابطہ اخلاق موجود نہ ہو۔ایک ایسے معاشرہ کو تصور میں لائیے جہاں لوگوں کا رہن سہن سادہ ہے۔لباس، خوراک یا رہائش وغیرہ پر بے جا اسراف سے کام نہیں لیا جاتا اور مختلف لوگوں کے طرز زندگی میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا۔وہاں چند ہاتھوں میں کتنی بھی دولت کیوں نہ اکٹھی ہو جائے اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا البتہ دولت کے بے دریغ خرچ اور اس کی نمود و نمائش اور دکھاوے سے دوسروں کے جذبات یقیناً مجروح ہوتے ہیں۔دولت بلا سوچے سمجھے لٹائی جا رہی ہو جہاں خرچ کرنا چاہئے وہاں خرچ نہ ہو اور جہاں ضرورت نہیں وہاں دولت کا ضیاع ہو رہا ہو اس پس منظر میں جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کی جدو جہد میں مصروف مصائب کے مارے ہوئے خستہ حال غرباء جب 235