اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 236 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 236

امراء کے ٹھاٹھ باٹھ اور ان کی شاہانہ طرز زندگی کو دیکھتے ہیں تو دولت کی یہ غیر مساوی تقسیم ان کے مابین ایک ایسی خلیج پیدا کر دیتی ہے جسے پاٹا نہیں جاسکتا۔پس اسلام فرد کی اس آزادی میں غیر ضروری طور پر دخل انداز نہیں ہوتا کہ وہ دولت کمائے اور پس انداز کرے۔اسلام تو پبلک سیکٹر سے زیادہ پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اسے فروغ دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام طرز زندگی سے متعلق ایک معتین ضابطہ اخلاق بھی عطا کرتا ہے اور اگر اسے لفظاً ومعناً اس کی حقیقی روح کے ساتھ اختیار کیا جائے تو بحیثیت مجموعی زندگی سب کے لئے سادہ اور خوشگوار بن جائے۔اسلامی نظام معیشت کے فلسفہ کا یہ پہلو چونکہ پہلے بیان ہو چکا ہے اس لئے اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔اسلام کا قانون وراثت اسلام کا قانون وراثت بھی ایک شخص کی وفات کے بعد اس کے ترکہ کی پسماندگان میں تقسیم کے سلسلہ میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ضروری ہے کہ وراثت شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق والدین، ازواج، اولاد، رشتہ داروں اور دیگر عزیز واقارب میں تقسیم کی جائے۔کسی وارث کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے حقوق وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا سوائے اس کے کہ کوئی معقول وجہ ہو۔وجہ کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کوئی فرد واحد نہیں بلکہ (اسلامی ریاست میں ) عدالت کرے گی۔اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے حق میں وصیت کرنا چاہے تو وہ اپنی املاک کا زیادہ سے زیادہ ایک تہائی حصہ اپنی مرضی سے دوسرے افراد یا سوسائٹی وغیرہ کو دے سکتا ہے۔(دیکھیں سورۃ النساء آیات ۸ تا ۱۳) دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کو روکنے کے لئے یہ اقدامات بہت مفید اور 236