اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 219
دے گا۔لیکن اگر معاشی بنیاد وسیع تر ہو گی تو اس سے صرف یہ فرق پڑے گا کہ آنے والے اقتصادی بحران کا حقیقی احساس ذرا دیر سے ہوگا۔آئیے ایک نظر ریاست ہائے متحدہ امریکہ پر ڈالتے ہیں کہ وہاں کیا ممکنہ صورت حال ہو سکتی ہے۔بلاشبہ امریکہ کی اپنی مارکیٹ ہی اتنی بڑی ہے جو اس کی صنعت کو سہارا دے سکتی ہے یہاں تک کہ بعض ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ اگر امریکہ باقی ساری عالمی برادری سے کٹ کر الگ بھی ہو جائے تو بھی اس کی اپنی مارکیٹ کی وسیع بنیاد اس کی صنعت کی بقاء کے لئے کافی ثابت ہو گی۔لیکن ایسے ماہرین بعض دیگر متعلقہ عوامل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔اگر آپ فرد واحد کی مذکورہ بالا مثال کو امریکہ کی صورتحال پر چسپاں کریں تو آپ کو صاف دکھائی دینے لگے گا کہ یہاں بھی منطقی انجام وہی ہوگا جس کا ذکر ہم پہلے ایک فرد کی مثال میں کر چکے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ یہاں معاشی تباہی میں کچھ وقت لگے گا۔امریکی بجٹ کے بھاری خسارہ اور کھربوں ڈالر کے قرض کو دیکھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ امریکہ بحیثیت مجموعی پہلے ہی اپنی کل آمد سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔امریکی عوام اپنے مستقبل سے لئے ہوئے بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو مجموعی طور پر قومی قوت خرید کم ہو جائے گی یا پھر قرض دینے والے ادارے دیوالیہ ہو جائیں گے۔فرد کی مثال میں ایک محدود معیشت کا سوال تھا اور یہاں ایک وسیع تر معیشت ہمارے پیش نظر ہے۔جہاں تک قوانین قدرت کا تعلق ہے تو یاد رہے کہ ان قوانین سے کسی کو مفر نہیں کچھ بھی ہو یہ بہر حال اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔پس یہ حالات جہاں بھی ہوں گے فطرت کے قوانین اپنا کردار ضرور ادا کریں گے۔گرمیوں کی شدت میں تالابوں اور جو ہڑوں کا پانی اپنے ماحول کے ساتھ ساتھ 219