اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 175
ظاہر کرتا ہے اللہ اسے واقعی غنی بنا دے گا۔اس حدیث میں آنحضرت ﷺ یہ نصیحت فرما رہے ہیں کہ تم اوپر والا ہاتھ بن جاؤ یعنی صدقہ و خیرات کرو اور دوسروں کی خدمت کرو نہ یہ کہ لوگ تم پر احسانات کریں اور تم صدقات لینے والے بن جاؤ۔مالی قربانی کے لئے طیب مال کی شرط صدقہ و خیرات کے آداب کے علاوہ یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ آپ کیا چیز خرچ کر رہے ہیں۔اگر آپ کوئی ایسی چیز صدقہ کرتے ہیں جو اگر آپ کو دی جائے اور آپ اسے قبول کرتے وقت شرمندگی محسوس کریں تو آپ کا صدقہ دراصل صدقہ نہیں ہے۔قرآن کریم کے نزدیک یہ تو کسی چیز کو کوڑے میں پھینک دینے کے مترادف ہے۔چنانچہ فرمایا:۔ص %0--0-0- يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ س وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِأَخِذِيْهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ۔وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيده ( سورة البقرة آیت ۲۶۸) ترجمہ۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جو کچھ تم کماتے ہو اس میں سے اور اس میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لئے زمین میں سے نکالا ہے پاکیزہ چیزیں خرچ کرو۔اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے وقت اس میں سے ایسی ناپاک چیز کا قصد نہ کیا کرو کہ تم اسے ہرگز قبول کرنے والے نہ ہو سوائے اس کے کہ تم (سیکی کے خیال سے) اس سے طَرْفِ نظر کرو۔اور جان لو کہ اللہ بے نیاز (اور ) بہت قابل تعریف ہے۔ط 175