اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 174

وَالْيَتَمَى وَالْمَسْكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ ووه و وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ ، وَمَا نَهَكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ( سورة الحشر آیت (۸) ترجمہ :۔اللہ نے بعض بستیوں کے باشندوں کے اموال میں سے ) اپنے رسول کو جو بطور غنیمت عطا کیا ہے تو وہ اللہ کے لئے اور رسول کے لئے ہے اور اقرباء یتامیٰ اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے تا ایسا نہ ہو کہ یہ ( مال غنیمت ) تمہارے امراء ہی کے دائرہ میں چکر لگاتا رہے۔اور رسول جو تمہیں عطا کرے تو اسے لے لو اور جس سے تمہیں رو کے اس سے رُک جاؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقیناً اللہ سزا دینے میں سخت ہے۔ط پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ایک حدیث میں بھی اس اصول کا ذکر فرمایا ہے۔اس حدیث کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے: عَنْ ـكِيْمِ بْنِ حِرَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَمَّ قَالَ: ° - Jo - الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأَ بِمَنْ تَعُولُ وَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ ده --٥ -٥ -٥ غِنِّى وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعْفِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ (صحيح البخاري ، كتاب الزكاة ـ باب لاصدقة الأعن ظهر غني) ترجمہ:۔حضرت حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔یعنی وہ شخص جو صدقہ و خیرات دیتا ہے وہ لینے والے سے بہتر ہے۔انسان کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اپنے عیال پر خرچ کرے۔بہترین صدقہ وہ ہے جو ایک دولت مند انسان اپنے اخراجات کے بعد بچی ہوئی دولت میں سے دیتا ہے۔جو کوئی دوسرے کے آگے سوال کرنے سے بچتا ہے اللہ اسے دے گا اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رکھے گا۔جو کوئی غنا 174