اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 156
کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے اور نہ کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت ہے۔ہاں فضیلت صرف اس حد تک ہے جہاں تک کوئی خدا اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتا ہے۔تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سب سے زیادہ متقی ہے۔جس طرح یہ مہینہ ، یہ دن اور یہ زمین مقدس ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان، مال اور عزت کو مقدس قرار دیا ہے۔کسی شخص کے جان و مال اور عزت پر حملہ کرنا ایسا ہی غلط اور ناجائز ہے جیسے اس دن اور اس مہینہ اور اس زمین کے تقدس کو پامال کرنا۔یہ حکم صرف آج کے لئے نہیں ہے بلکہ دائمی ہے۔مجھے امید ہے کہ تم اسے یاد رکھو گے اورر اس پر عمل پیرا رہو گے یہاں تک کہ تم اپنے پیدا کرنے والے خدا کے حضور حاضر ہو جاؤ۔آج جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے اسے دنیا کے کناروں تک پہنچا دو۔ہو سکتا ہے جو لوگ یہ باتیں نہیں سن رہے وہ ان باتوں سے ان لوگوں کی نسبت زیادہ فائدہ اٹھا ئیں جو سن رہے ہیں۔(صحاح سته ، طبری، ابن هشام، خمیس، بیهقی) اس عظیم الشان خطبہ کا یہ ایک نہایت فصیح و بلیغ اور پر شوکت اقتباس ہے۔اس میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات خاص طور پر ہمیں یاد دلائی ہے وہ یہ ہے کہ ہم سب ایک آدم کی اولاد ہیں۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مختلف مذاہب کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اس عالمگیر وحدت انسانی کو پارہ پارہ کریں جو ایک آدم کی اولاد ہونے کے ناطہ پیدا ہوتی ہے۔156