اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 147

اسے خاموش تماشائی بن کر دور سے دیکھتا رہے۔اب دنیا سیاسی اور معاشی بنیادوں پر بھی تقسیم ہو چکی ہے۔یہ تقسیم شمال کے امیر ممالک اور جنوب کے غریب ممالک اور مشرق و مغرب کے درمیان ایک جدید قسم کے نسلی تعصب کو جنم دے رہی ہے۔مشرق و مغرب کے درمیان حائل ان رقابتوں اور نفرتوں کے متعلق کسی نے کیا خوب کہا ہے: East is East and West is West, and never the twain shall meet یعنی مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب ہے اور یہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہوسکیں گے۔عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی میں حالیہ کمی اور دوستانہ تعلقات کی بحالی سے اس بات کا امکان بھی ہے کہ مغرب کے عیسائی ممالک اور مشرق کے مسلمان ممالک کے درمیان پائے جانے والے قدیم مذہبی اور سیاسی اختلافات اور رقابتیں پھر سے زندہ ہو جائیں۔بڑی طاقتوں کے مابین دوستانہ تعلقات کے استوار ہونے سے لازماً ایک نیا استعمار وجود میں آئے گا اور ایک وسیع البنیا د نسلی عصبیت سر اٹھائے گی جس کے باعث مشرق اور مغرب کے درمیان پائے جانے والے فاصلے اگر اور بھی بڑھ جائیں تو اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ہو سکتا ہے کہ یہ مذکورہ بالا تفصیل نسل پرستی کی مسلمہ تعریف سے تجاوز کرتی ہوئی دکھائی دے اور بعض لوگ یہ سمجھیں کہ میں نے نسلی عصبیت کی تعریف کو ضرورت سے زیادہ وسیع کر دیا ہے اور ایسے امور کو بھی بحث میں شامل کر لیا ہے جو بظاہر نسل پرستی سے تعلق نہیں رکھتے لیکن میں نسلی تعصب کے محرکات کے گہرے اور غیر جانبدارانہ مطالعہ اور مشاہدہ کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ کسی بھی غلط طرز عمل کو آپ نسلی عصبیت کہیں یا اسے کوئی اور شائستہ سا نام دے دیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اگر پس پردہ عوامل ایک سے ہیں تو پھر مرض بھی دراصل ایک ہی ہے خواہ اس کا نام کوئی سا کیوں نہ رکھ دیا جائے۔نسلی عصبیت کو اگر وسیع تر 147