اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 135
برائی کا خاتمہ۔ایک اجتماعی ذمہ داری لوگوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری حکومتوں کے سر نہیں ڈالی گئی بلکہ بحیثیت مجموعی معاشرہ کے سب لوگوں پر عائد کی گئی ہے۔یہ لوگوں کا فرض ہے کہ وہ برائی سے بچیں اور نیک اعمال بجالائیں۔ترقی یافتہ ممالک میں گھروں، گلیوں اور بازاروں سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے اسے ٹھکانے لگانے کا کام چند مخصوص لوگوں کے سپرد ہوتا ہے۔غریب ممالک میں خاتون خانہ گھر کے کوڑا کرکٹ کو گلیوں میں پھینک دیتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ راستے غلاظت سے اس قدر بھر جاتے ہیں کہ گزرنا دو بھر ہو جاتا ہے۔گھروں کو پاک صاف رکھنا بے شک گھر والوں کا فرض ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ گلیوں، محلوں اور راستوں کی صفائی کا بھی کوئی باقاعدہ انتظام ضرور ہونا چاہئے۔مغرب نے پبلک مقامات کو صاف رکھنے کی سماجی ذمہ داری کی اہمیت کو جان لیا ہے مگر افسوس کہ وہ جرائم کی نجاست سے معاشرہ کو پاک رکھنے کی انتہائی اہم ضرورت اور ذمہ داری کو نہیں سمجھ سکے۔یہ وہ گندگی اور نجاست ہے جو روزانہ گھروں سے نکل نکل کر گلیوں اور بازاروں اور سارے معاشرہ کو آلودہ کر رہی ہے۔اسلام نے سماجی ماحول کے اس مسئلہ کو بڑی جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس کا حل تجویز فرمایا ہے۔بدی کی نجاست کو کم سے کم کرنے کی اولین ذمہ داری گھر کے بڑوں اور بزرگوں پر عائد ہوتی ہے۔مقصد یہ ہے کہ معاشرہ میں پاکیزگی ہو نیکی کو فروغ حاصل ہو اور بدی کی غلاظت کم ہو۔دوسرے اسلام معاشرہ پر بھی یہ ذمہ داری ڈالتا ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر برائی کے خلاف ایک جہاد شروع کرے۔یہ جہاد نہ تو تلوار کے ذریعہ ہونا چاہئے اور نہ محض قانونی پابندیوں سے بلکہ حکمت کے ساتھ لوگوں کو سمجھانا چاہئے اور مسلسل نصیحت کرتے چلے جانا چاہئے۔135