اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 91

اگر ایک خالق خدا موجود ہے (جس کا انکار البرٹ آئن سٹائن بھی نہیں کر سکے ) اور اگر کائنات میں جاری و ساری تمام سائنسی قوانین کو بنانے اور چلانے والا بھی وہی خالق اکبر ہے تو پھر یہ بات بالکل نا قابل فہم ہے کہ وہ تخلیق کائنات کے آخری مقصود یعنی انسان کو جرم و سزا کے قانون سے آزاد کر کے یونہی فساد اور ابتری میں بے مقصد بھٹکنے کیلئے چھوڑ دے اور اس کے اعمال کا کوئی محاسبہ نہ ہو۔آئن سٹائن کے اس خیال سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ مخلوق کے تدریجی ارتقاء میں قانون جرم وسزا کے کردار کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔نیز اس نے انسان کے اللہ تعالیٰ کی شبیہ پر پیدا کئے جانے کے معنی بھی بالکل غلط سمجھے ہیں۔انسان کو جو اللہ تعالیٰ کی شبیہ پر بنایا گیا ہے اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ انسان زمین پر خدا کا ایک کامل نمونہ ہے۔اگر ایسا ہوتا تو پھر یہ زمین جنت تو کیا اس سے بھی بڑھ جاتی۔اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلتا کہ سب انسان ایک جیسے ہوتے بالکل ایک دوسرے کے مشابہ۔اس صورت میں یہ امر یقینا قابل غور ہے کہ پھر کیا ایسی جگہ جنت کہلانے کے قابل ہوتی یا یکسانیت اور بوریت کا شکار ہو جاتی جہاں نہ رنگوں میں کوئی تنوع ہوتا ، نہ قسم قسم کی خوشبوئیں ہوتیں۔دراصل انسان کے خدا کی شکل پر پیدا کئے جانے کا نہ تو یہ مقصد ہے اور نہ اس کے یہ معنی ہیں۔گہری حکمت پر مبنی یہ قول انسان کی ان استعدادوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو اسے عطا کی گئی ہیں۔لہذا انسان کو ایک اعلیٰ مقصد کے حصول کے لئے مسلسل کوشاں رہنا چاہئے اور وہ اعلیٰ مقصد یہ ہے کہ جہاں تک انسان کیلئے ممکن ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنا کر اپنی ذات کی تعمیل کرے یہاں تک کہ اس کا وجود خدا نما وجود بن جائے۔ان معنوں کے لحاظ سے یہ کوئی ایسا معین اور محدود مقصد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شبیہ اختیار کر کے انسان اپنی شان و شوکت کو ساتھ لئے ایک جگہ بیٹھا رہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اسکی 91