اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 86
لذت کی ایسی تلاش جلد ہی تبدیلی اور تنوع کا تقاضا کیا کرتی ہے تاکہ پہلے سے بڑھ کر لطف اٹھایا جا سکے۔اگر ایسا نہ ہو تو جو چیزیں پہلے لذت دیتی تھیں بے مزہ ہونے لگتی ہیں۔تمباکو نوشی اور دیگر روایتی نشے اتنی تسکین دینے میں ناکام ہو جاتے ہیں جس قدر ایک بے چین اور بے سکون معاشرہ تقاضا کرتا ہے۔پس ہر قسم کی منشیات اور نشہ کے اس خطرناک رجحان کی روک تھام کیلئے جو بھی اقدامات کئے جائیں وہ نا کافی ثابت ہوتے ہیں۔نشہ کرنے والوں کو تیز سے تیز نشے کی تلاش رہتی ہے۔نتیجہ جلد ہی Crack جیسی خوفناک قسم کی زہریلی اور جان لیوا منشیات ایجاد کر لی جاتی ہیں۔موسیقی کی دنیا میں بھی اس صدی کی آخری دہائیوں میں رفتہ رفتہ ایسے ہی رجحانات پیدا ہو گئے ہیں۔موسیقی میں گزشتہ چند صدیوں میں ہونے والی ترقی کا موازنہ اگر موجودہ صدی کی آخری چند دہائیوں میں سامنے آنے والی تیز دھما کہ خیز اور کان پھاڑنے والی موسیقی سے کیا جائے تو بہت سے دلچسپ اور حیران کن حقائق سامنے آئیں گے۔ذاتی طور پر موسیقی کے متعلق مجھے کچھ زیادہ علم نہیں ہے اس لئے اس پر میرا تبصرہ اگر کچھ عجیب نظر آئے اور حقائق کچھ اور ہوں تو میں اس کے لئے معذرت خواہ ہوں تاہم میرا وجدان مجھے بتاتا ہے کہ گزشتہ چند صدیوں میں مغرب میں موسیقی کی جو تدریجی ترقی ہوئی وہ اعلیٰ ذوق اور شاندار نغمگی کی آئینہ دار تھی۔یہ موسیقی دل اور دماغ دونوں کیلئے بیک وقت سکون بخش محسوس ہوتی تھی۔بہترین موسیقی تو وہی ہے جو قلب و ذہن کی باطنی نغمگی سے ہم آہنگ ہو کر روح کی گہرائیوں میں اتر جائے۔موسیقی کے ارتقاء کا آخری مقصد ہم آہنگی اور امن وسکون کی تلاش ہی تو ہے۔عظیم موسیقاروں نے یقیناً ایسی دھنیں بھی ترتیب دیں کہ جو آتش فشاں پہاڑوں کے پھٹنے، طوفانوں، بادلوں کی گرج اور بجلی کی کڑک اور 98 86