اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 87

شور و غوغا اور ہلچل کا سا تاثر پیدا کرتی تھیں۔دراصل ایسی موسیقی مظاہر فطرت کے ساتھ ایک گونہ مطابقت رکھتی تھی اور اس کی یادوں کے انمٹ نقوش خود زندگی کے حافظہ پر مرتسم تھے اور کبھی کبھی یہ موسیقی جب اپنے نقطہ عروج کو پہنچتی تو یوں لگتا جیسے اس کے اونچے سروں سے یہ کائنات پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی مگر اس کے با وجود سامعین یوں دم سادھے بے حس و حرکت بت بنے بیٹھے رہتے جیسے صوت و آہنگ کے اس بے پناہ سیلاب میں بہے چلے جا رہے ہیں۔ایک گہری خاموشی اور سناٹے کا عالم طاری ہو جاتا۔حرکت تو کجا آنکھ تک جھپکنے کی فرصت نہ ملتی اور جب موسیقی اپنے اختتام کو پہنچتی تو سارا ہال تالیوں کے بے پناہ شور میں ڈوب جاتا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ایسی موسیقی کتنی ہی تند و تیز ، جذباتی اور ہیجان انگیز کیوں نہ ہو سامعین کو تشدد، توڑ پھوڑ اور بغاوت پر آمادہ نہیں کیا کرتی تھی۔اس کا پیغام تو بہت ہی ارفع اور اعلیٰ تھا یعنی امن ، سکون اور شانتی جس سے انسان کے لطیف اور ارفع احساسات بیدار ہوں اور سطحی کثافتیں دھل جائیں۔مگر افسوس ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں یہ منظر بالکل بدل چکا ہے۔نئی نسل کے کان ایسی موسیقی کے شور سے پھٹ رہے ہیں جو انسان کے اندر کی حیوانیت کو انگیخت کرتی ہے اور اسے تہذیب کی بجائے وحشت کی طرف لے جاتی ہے۔یہ بے قرار اور بے چین نسل صرف وہی موسیقی سننے کی خواہش مند ہے جو اس کے جنون اور بے چینی کی آگ کو اور بھی بھڑ کا دے۔موسیقی جس قدر ہیجان انگیز اور ہنگامہ خیز ہو اسی قدر پسند کی جاتی ہے۔میں ایک بار پھر اپنے کسی ایسے تبصرہ پر معذرت خواہ ہوں جو پاپ اور کلاسیکل موسیقی سے میری ناواقفیت پر مبنی ہو۔تا ہم ایک بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہنگامہ خیزی، دیوانگی، بغاوت اور وحشت کے رجحانات انسان کی ارفع و اعلیٰ استعدادوں کو تیزی کے ساتھ برباد کر رہے ہیں۔87