اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 80
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (سورہ بنی اسرائیل آیت ۳۷) ترجمہ۔اور وہ موقف اختیار نہ کر جس کا تجھے علم نہیں۔یقیناً کان اور آنکھ اور دل میں سے ہر ایک سے متعلق پوچھا جائے گا۔اس آیت کریمہ میں دل سے مراد وہ قوت ہے جو تمام انسانی اعمال کے پیچھے کارفرما ہے۔قرآن کریم کے محاورہ میں فواد سے مراد فیصلہ کرنے والی وہ قوت ارادی ہے جو دماغ سے ایسے ہی کام لیتی ہے جیسے کوئی کمپیوٹر کو چلاتا ہے۔نیکی اور بدی کا منبع و ماخذ یہی قوت ارادی ہے اور مرنے کے بعد بھی یہی قوت زندگی کی ایک نئی شکل پا کر سماعت اور بصارت کے ساتھ اپنے اعمال کی جوابدہ ہوگی۔آیئے اب ہم ایمان باللہ سے عاری معاشروں کی خصوصیات کا کچھ تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں۔ہوتا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور حیات آخرت پر عدم ایمان کی مبہم سی کیفیت مخفی رہتی ہے جس کا شعوری طور پر پورا احساس نہیں ہوتا۔عقیدہ کی حد تک تو انسان بظاہر اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور اخروی زندگی کو تسلیم کرتا ہے مگر عملی زندگی میں اس ایمان کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔ہاں کبھی یہ ضرور ہوتا ہے کہ اگر انسان کسی بحران سے دو چار ہو جائے تو لاشعور میں دبی ہوئی پوشیدہ حقیقتیں اس پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔بصورت دیگر کئی نسلیں گزر جاتی ہیں اور انسان کو اپنے عقائد کی کمزوری اور بے یقینی کا احساس تک نہیں ہوتا اور جب رفتہ رفتہ ایک دور اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور دنیا بتدریج ایک نئے دور میں داخل ہونے لگتی ہے تو بحیثیت مجموعی معاشرہ میں ان عقائد کا از سر نو جائزہ لینے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے جو اسے اپنے آباء و اجداد سے ورثہ میں ملے ہوں۔تب اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت کا انکار جواب تک لاشعور میں مخفی تھا ابھر کر سامنے آنے لگتا ہے اور لذتوں کی ناجائز تلاش میں گم معاشرہ جب ہستی باری تعالیٰ 80 80