اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 79
ان لوگوں کا ایمان بھی درحقیقت ایک واہمہ سا ہوتا ہے۔اپنی پسند نا پسند کا سوال پیدا ہونے پر اولیت اپنے ذاتی اور فوری مفاد ہی کو حاصل ہوتی ہے اور اسے ہی ترجیح دی جاتی ہے۔آنے والی زندگی کی ہرگز پرواہ نہیں کی جاتی۔جب ہم کسی مادہ پرست معاشرہ کی بات کرتے ہیں تو صرف ایسا معاشرہ ہی نہیں ہوتا جس نے ہستی باری تعالیٰ اور حیات آخرت کے تصور سے علی الاعلان بغاوت کی ہو۔ہستی باری تعالیٰ پر بظاہر ایمان رکھنے والے اور اس کا انکار کرنے والے اکثر معاشروں میں اگرچہ نظریاتی اعتبار سے بظاہر بعد المشرقین دکھائی دیتا ہے مگر بایں ہمہ عملاً ان دونوں کے مابین گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔اعمال کی جوابدہی کا تصوّر ایک مادہ پرست معاشرہ کے تصور کے برعکس قرآن کریم انسان کے محاسبہ اور مواخذہ کا تصور پیش کرتا ہے۔فرمایا: وہ وہ ہ وہ وہ و لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تَبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ - و و يُحَاسِبُكُمْ بِهِ اللَّهُ ، فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلَّ 280 شَيْءٍ قَدِيرٌ ط (سورۃ البقرہ آیت ۲۸۵) ترجمہ۔اللہ ہی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔اور خواہ تم اُسے ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اُسے چھپاؤ اللہ اس کے بارہ میں تمہارا محاسبہ کرے گا۔پس جسے وہ چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔قرآن کریم اس کے متعلق مزید فرماتا ہے۔79