اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 78
لادین اور مادہ پرست معاشرہ کے خدو خال کو اس سے زیادہ معین اور جامع الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ایسے معاشرہ کی خصوصیات یہ ہیں: ا۔اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اعراض ۲۔غرباء اور مساکین کو کھانا نہ کھلانا ۳۔لغو اور بے مقصد مشاغل ۴۔احتساب اور جزا سزا کے دن کا انکار اس مضمون پر مزید روشنی ڈالنے سے پہلے ایک ایسی الجھن کا دور کرنا ضروری ہے جس کی وجہ سے ایک بیمار معاشرہ کے مرض کی صحیح تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔وہ معاشرے جو خدا تعالیٰ اور یوم آخرت پر بظاہر پختہ ایمان رکھتے ہیں ان میں بھی مذکورہ بالا برائیاں پھیل رہی ہیں اس لئے منطقی طور پر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ حیات بعد الموت اور جزا سزا کے دن پر ایمان رکھنے والے کیسے ان برائیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔پس سوال یہ ہے کہ ایسے معاشرے بھی مادہ پرستی میں کیوں ڈوبے ہوئے ہیں؟ لیکن جب ہم ان لوگوں کے ایمان و اعتقاد کا بنظر غائر جائزہ لیتے ہیں تو اس سوال کا جواب تلاش کرنا چنداں مشکل نہیں رہتا۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر محض ایک فلسفیانہ اور موہوم سا ایمان لوگوں کے معاشرتی رویوں پر ہرگز اثر انداز نہیں ہوسکتا۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ایسے عقائد محض علمی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ایک ذمہ دار اور صالح کردار میں نہیں ڈھل سکتے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ پر سچا اور حقیقی ایمان بھی رکھتا ہو اور کذب و افتراء خود غرضی، حق تلفی بدعنوانی اور بے رحمی جیسے رزائل کا شکار بھی ہو۔اگر ایسا ہو تو اس قسم کے معاشرہ میں اللہ تعالیٰ کا تصور محض سطحی، خیالی اور غیر مؤثر ہو کر رہ جاتا ہے اور انسانی کردار کی تشکیل میں کوئی فعال کردار ادا نہیں کر سکتا۔حیات بعد الموت اور جزا سزا کے دن پر 78