اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 77
جائیں گے تو کیا ہم پھر بھی ضرور اٹھائے جائیں گے۔قرآن کریم کے مطابق ایک مادہ پرست معاشرہ کی تمام برائیوں کی جڑ یہی عقیدہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اخروی زندگی اور یوم حساب پر اس قدر زور دیا گیا ہے۔بخاری کی ایک حدیث میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مستطیل بنائی اور اس کے وسط میں لمبائی کے رخ ایک خط کھینچا جس کا بالائی سرا مستطیل سے باہر نکلا ہوا تھا پھر آپ نے اس خط کو قطع کرتے ہوئے کئی چھوٹے افقی خطوط کھینچے اور اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شکل انسانی زندگی کو ظاہر کرتی ہے۔مستطیل جس نے ان خطوط کو گھیرا ہوا ہے موت ہے۔درمیانی خط انسان کی خواہشات کی عکاسی کرتا ہے اور چھوٹے خطوط زندگی میں آنے والے ابتلاؤں اور مصائب کو ظاہر کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اگر وہ ان میں کسی ایک مصیبت سے بچ نکلتا ہے تو دوسری کا شکار ہو جاتا ہے۔ترمذی کی ایک حدیث میں موت کو انسان کی آرزوؤں اور خواہشوں کا اختتام قرار دیا گیا ہے۔مادہ پرست معاشرہ کی چار خصوصیات مَاسَلَكَكُمْ فِي سَقَرَه قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِفِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ (سورۃ المدثر آیات ۴۳ تا ۴۷) ترجمہ۔تمہیں کس چیز نے جہنم میں داخل کیا۔وہ کہیں گے ہم نمازیوں میں سے نہیں تھے۔اور ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے۔اور ہم بھی لغو باتیں کرنے والوں کے ساتھ لغو باتوں کے مرتکب ہوا کرتے تھے اور ہم جزا سزا کے دن کا انکار کیا کرتے تھے۔77