اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 74
جنت اور جہنم خود تعمیر کرتے ہیں۔اس سیاق و سباق میں یہ امر واضح ہو جانا چاہئے کہ کوئی بھی سماجی نظام جو ایک بے لگام مادر پدر آزاد اور فساد پر مبنی طرز عمل کو فروغ دیتا ہے وہ بہر حال مسترد کئے جانے کے لائق ہے خواہ سرسری نظر سے وہ کتنا ہی پرکشش اور جاذب نظر کیوں نہ دکھائی دے۔کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ اگلے جہان پر یقین رکھنے والے شوق سے ایسی باتیں اور دعوی کیا کریں، بھلا مرنے کے بعد بھی کبھی کوئی اس دنیا سے واپس آیا ہے جو ان دعاوی کی تصدیق یا تکذیب کر سکے۔پس کیوں نہ اس دنیا ہی کے مزے لوٹے جائیں۔نو نقد نہ تیرہ ادھار۔اور کیوں خواہ مخواہ جانی بوجھی لذتوں کو ان دیکھی لذتوں پر قربان کیا جائے؟ مادہ پرست لوگ یہ باتیں اسلام کے اس فلسفہ کے جواب میں کیا کرتے ہیں جو بتاتا ہے کہ معاشرہ کی تشکیل کے بنیادی اصول کیا ہیں۔اسلام کا فلسفہ دنیوی زندگی اور حیات اخروی دونوں پر محیط ہے۔اس کے مطابق یہ دونوں زندگیاں الگ الگ نہیں ہیں۔دراصل زندگی ایک تسلسل کا نام ہے جو لمحہ بھر کے لئے موت کے وقت ٹوٹ جاتا ہے۔موت بھی در حقیقت ایک زندگی سے دوسری زندگی میں جانے کا نام ہے۔اس کے برعکس مادیت کے نزدیک زندگی شعور کا ایک عارضی اور مختصر عرصہ ہے جو ہمیں اتفاقا مل گیا ہے۔موت کے ساتھ ہی انسان کی ہستی، نیستی اور عدم کے اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے۔پس اس فلسفہ کے مطابق سماجی نظام کا منتہائے نظر صرف اور صرف اتنا ہے کہ اس مختصر عرصہ حیات کی ضرورت کو کسی نہ کسی طرح پورا کر لیا جائے۔فرد صرف اس وقت تک معاشرہ کے سامنے جوابدہ ہے جب تک وہ زندہ ہے اور یہ جوابدہی بھی صرف ان جرائم تک محدود ہے جو دکھائی دیں اور جن کا سراغ لگایا جا سکتا ہو۔انسان کے مخفی خیالات، نیتیں، منصوبے سازشیں اور ایسے جرائم جو عیاری اور چالاکی کے پردوں میں چھپ کر رہ جاتے ہیں احتساب سے بالا ہیں۔74