اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 72
ނ ہے جس کی روئیدگی کفار (کے دلوں) کو لبھاتی ہے۔پس وہ تیزی بڑھتی ہے۔پھر تو اسے زرد ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ( مقدر) ہے نیز اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضوان بھی۔جبکہ دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا ایک عارضی سامان ہے۔مادہ پرستی کے سراب کی اصلیت بیان کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةِ يَحْسَبُهُ الظَّمَانُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَ ، لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَّ وَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَقَهُ حِسَابَهُ، وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ --- ( سورة النور آیت ۴۰) ترجمہ۔اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال ایسے سراب کی طرح ہیں جو چٹیل میدان میں ہو جسے سخت پیاسا پانی گمان کرے یہاں تک کہ جب وہ اس تک پہنچے اسے کچھ نہ پائے۔اور اللہ کو اس جگہ پائے پس وہ اسے اس کا پورا پورا حساب دے اور اللہ حساب چکانے میں تیز ہے۔قرآن کریم کے نزدیک مادہ پرستی سراب کی مانند ہے۔ایک پیاسا اسے پانی سمجھ کر اسکی طرف دوڑتا ہے مگر سر اب اس سے آگے کی طرف بھاگتا ہے۔یہاں تک کہ پیاسا اتنا تھک جاتا ہے کہ سراب کا مزید تعاقب نہیں کر سکتا۔تب اسے اپنے کئے کی سزا ملتی ہے اور شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک بے معنی اور کھو کھلے مقصد کے لئے ساری عمر سر گرداں رہا ہے۔پھر اچانک یوں لگتا ہے کہ وہ سراب جیسے رک گیا ہو اور کہ رہا ہو کہ آؤ مجھے پکڑ لو اور دیکھ لو تا کہ تم سمجھ سکو اور تمہیں جلد ہی اندازہ ہو جائے گا کہ جھوٹی حقیقتوں کے پس پردہ معانی کتنے تلخ ہوا کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں کی سزا ہے جو زندگی کی جھوٹی شان وشوکت کے پیچھے بھاگتے ہیں اور 72