اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 70

امریکہ ہے جو بڑے وسیع پیمانے پر نہ صرف پہلی دنیا کے یوروپین ممالک بلکہ دوسری اور تیسری دنیا کے لوگوں پر بھی بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے اور اب تو شخصی آزادی کے اس بگڑے ہوئے نظریے کی صدائے بازگشت سائنٹفک سوشلزم کی نظریاتی سرحد کے پار بھی بہت دور تک سنائی دے رہی ہے۔یہ وہ نظریہ آزادی ہے جو فرد کو اخلاقیات کی حدود سے آزاد کرتا چلا جارہا ہے۔ہم جنس پرستوں، عصمت فروشوں، بدمعاشوں، نشہ کرنے والوں، بگڑے ہوئے نوجوانوں غرضیکہ ہر قسم کے جرائم پیشہ افراد کی تعداد بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور یہ لوگ روز بروز طاقت پکڑتے جا رہے ہیں۔ان بگڑے ہوئے نو جوانوں کی شوخی کا یہ عالم ہے کہ اگر انہیں سرزنش اور نصیحت کی جائے اور ٹو کا جائے کہ ایسی حرکتیں نہ کرو تو وہ جوابا پوچھتے ہیں کہ آخر ہم کیوں ایسا نہ کریں۔ایسے نوجوانوں کا یہ رویہ آج معاشرہ کے لئے ایک خطرناک چیلنج بنا ہوا ہے۔دو قسم کے معاشرتی ماحول قرآن کریم نے معاشرتی نظام کے دو قسم کے ماحول کا ذکر فرمایا ہے۔اول۔ایسا ماحول یا فضا جس میں بدی کو کھل کھیلنے کی پوری آزادی ہو۔دوم۔ایسا ماحول جس میں برائی کی نشو ونما کو سختی سے روک دیا جائے۔اگر اسلام کی اخلاقی تعلیمات کو یکجائی نظر سے دیکھنے کی بجائے جزواً دیکھا جائے تو مغربی ذہن کیلئے اسلام کے پیغام اور اس کے فلسفہ کو سمجھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔پس ضروری ہے کہ اخلاقی تعلیمات کا مطالعہ پورے سماجی ماحول کے تناظر میں کیا جائے اور معاشرتی ماحول اور اخلاقی تعلیمات پر بحیثیت مجموعی غور کیا جائے۔10 70