اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 69
سے تعلق رکھنے والا کوئی فرقہ سب کے مذہبی تصورات میں قرون وسطی کی سی قدامت پسندی پائی جاتی تھی۔مذہبی عقائد اور فطری حقائق میں جو باہمی تضاد پیدا ہو گیا تھا اس کا باعث یہی قدامت پسندی تھی۔یہ تضادات اتنے گہرے تھے کہ مذہب اور فطرت دونوں کو بیک وقت درست تسلیم کرنا ناممکن ہو گیا۔اس قسم کے مذہبی نظریات اور حقائق کے مابین اختلافات کی موجودگی میں ذہنی خلفشار سے بچ نکلنے کے لئے ایک خاص قسم کی ذہنی تربیت کی ضرورت ہے۔تضادات کی دنیا میں رہنا اتنا آسان نہیں سوائے اس کے کہ نسل در نسل لوگ ان کی موجودگی میں پل بڑھ کر جوان ہوں یہاں تک کہ تضادات کا احساس ہی مٹ جائے۔رفتہ رفتہ ایک ایسا وقت بھی آجاتا ہے کہ مذہبی جماعتیں ان تضادات کی موجودگی میں زندہ تو رہتی ہیں لیکن انہیں یہ تضادات دکھائی نہیں دیتے۔سوشلسٹ انقلاب نے ان ممالک کے رہنے والوں پر جو اثرات مرتب کئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انکے ذہن سے کٹر نظریات دھل کر صاف ہو گئے ہیں اور کج نظری اور کج فہمی کی بیماریاں جاتی رہی ہیں۔نتیجہ ان میں ایک ایسی معصومیت کی جھلک نظر آنے لگی ہے جو منافقت سے چھٹکارا حاصل کئے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔یہ کہنا تو ابھی بہت قبل از وقت ہوگا کہ آنے والی سخت جد و جہد کے مشکل وقت میں ایسی معصومیت انہیں کوئی اخلاقی فائدہ بھی دے گی یا نہیں؟ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ ان لوگوں میں آج سچائی کے پیغام کو بلا تعصب قبول کرنے کے لئے دوسروں سے کہیں زیادہ صلاحیت پیدا ہو چکی ہے۔افسوس کہ باقی دنیا میں شخصی آزادی کے نام نہاد علمبرداروں کے متعلق ہم یہی بات وثوق سے نہیں کہہ سکتے۔بے لگام آزادی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی موجودگی میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ لوگ بھی قبول حق کے لئے تیار ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ فرد کی آزادی کے نام پر عملاً ایک شخص جو چاہے کر سکتا ہے۔اس نام نہاد آزادی کے رجحان کا لیڈر 60 69