اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 68

ممالک کے برعکس نام نہاد آزاد دنیا میں فرد کی آزادی کا بڑھتا ہوا شعور بجائے خود ایک غیر متوازن رجحان کی شکل اختیار کر رہا ہے۔بے لگام آزادی کا یہی رجحان بڑی حد تک معاشرتی بے راہ روی کا ذمہ دار ہے۔جن ممالک میں یک جماعتی آمرانہ نظام مسلط ہے وہاں شخصی آزادی کا بڑھتا ہوا شعور جبرو استبداد کے پنجہ سے نجات حاصل کرنے کی سخت جدوجہد میں مصروف ہے۔اگر ان ممالک کی مسلح افواج کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند آزادی کی اس لہر کے خلاف نہ اٹھ کھڑے ہوئے تو امکان یہی ہے کہ آزادی کی یہ جنگ عنقریب کامیابی سے ہمکنار ہو جائے گی۔اس آزادی کے حصول کے بعد سابقہ کمیونسٹ ممالک کی آزاد اور بے لگام فضا میں نوجوان طبقے کے اخلاق پر کیا گزرے گی اس کے آثار تو کچھ اچھے نظر نہیں آ رہے۔اس بے دین اور ملحدانہ خلا میں پوری دو نسلیں پل کر جوان ہو چکی ہیں۔حالت یہ ہے کہ نہ تو کوئی اخلاقی نظام میسر ہے اور نہ ہی کوئی ایسے راہنما اصول جنکی روشنی میں وہ اپنے کردار کی صحیح تشکیل کر سکیں۔ایک طرف تو ان معاشروں میں ان اخلاقی قدروں کا یکسر فقدان ہے جو کسی بھی روحانی نظام کی جان ہوا کرتی ہیں اور دوسری طرف لہو ولعب اور عیاشی کے دلدادہ بے مقصد اور بے لگام مادر پدر آزاد مغربی رجحانات کا ایک سیلاب ہے جو سوویت یونین اور مشرقی یورپ کی نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جو آگے چل کر اسکی اخلاقی حالت پر تباہ کن اثرات پیدا کرنے کا موجب بھی بن سکتا ہے۔بے دین زندگی کے اس طویل تجربہ نے جہاں عصر حاضر کو بہت سی برائیوں میں مبتلا کر دیا ہے وہاں اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ تجربہ اپنے ہمراہ کچھ فوائد بھی لایا ہے۔روس کے سوشلسٹ ممالک نہ صرف مذہب سے لاتعلق ہو گئے بلکہ انہیں بگڑے ہوئے کٹر مذہبی عقائد اور نظریات سے بھی چھٹکارا مل گیا۔عیسائیت ہو یا اسلام یا ان مذاہب ا 88 68