اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 67

آلودگی کے متعلق پریشان ہے۔قرآن کریم ایک ایسے ہی پر آشوب دور کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَالْعَصْرِهِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْره الا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِه (سورۃ العصر آیات ۲ تا ۴) ترجمہ۔زمانے کی قسم ! یقیناً انسان ایک بڑے گھاٹے میں ہے۔سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اور حق پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور صبر پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔استحصال، دھوکہ دہی ، منافقت، خود غرضی ، ظلم، لالچ ، لذت کی دیوانہ وار تلاش، بدنظمی، بدعنوانی، چوری چکاری ، ڈاکہ زنی، حقوق انسانی کی خلاف ورزی، فریب کاری، دغابازی، احساس ذمہ داری کا فقدان اور باہمی احترام و اعتماد کی کمی آج کے جدید معاشروں کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ظاہری تہذیب کی جھوٹی ملمع کاری زیادہ دیر تک اس بدنمائی کو چھپا نہیں سکتی جو اب کھل کر سامنے آ رہی ہے۔یہ کہنا تو غلط ہوگا کہ اس قسم کی انسانی کمزوریاں پہلے زمانوں میں نہیں ہوتی تھیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ماضی کی بہت سی تہذیبیں اپنی صف لیٹے جانے سے پہلے ایسے ہی امراض کا شکار تھیں۔تاریخ انسانی میں نیا منسیا ہو جانے سے پہلے انہیں بھی ایسی ہی بیماریاں لاحق تھیں اور ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کوئی خاص قوم یا خطہ ہی ایسا تھا جو اس قسم کی اخلاقی برائیوں کے باعث ہلاکت کے گڑھے تک جا پہنچا تھا بلکہ یہ وہ تاریخ ہے جو بار بار دہرائی گئی ہے۔آج بھی دنیا کے مختلف معاشرے انحطاط کا شکار ہو رہے ہیں اور سب جگہ اس انحطاط کی وجوہات بھی خاصی ملتی جلتی ہیں۔یک جماعتی آمرانہ نظام رکھنے والے 40 67