اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 55
" سے وابستہ کچھ لوگوں کے خلاف بھڑکا یا جا سکتا ہے۔ان پر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے جا سکتے ہیں۔صرف اس لئے کہ بدقسمتی سے وہ اقلیت میں ہیں۔مسلمانوں کی ساری تاریخ ایسے بھیانک اور بدنما واقعات سے بھری پڑی ہے جب اسلام کو جو امن و آشتی کا مذہب ہے دوسرے بے گناہ مسلمانوں کے امن و چین کو تباہ و برباد کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔وہ مظلوم لوگ بلاشبہ مسلمان ہی تھے صرف انکا مسلک وہ نہیں تھا جو اکثریت ان پر ٹھونسنا چاہتی تھی۔تاریخ اسلام سے یہ بات ثابت ہے کہ خود مسلمانوں پر اسلام کے نام پر ظلم و ستم توڑے گئے ہیں۔مسلمانوں نے جتنی صلیبی جنگیں عیسائیوں کے خلاف لڑی ہیں وہ تعداد اور شدت میں ان مقدس جنگوں سے بہت کم ہیں جو چودہ سو سال میں مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف لڑی ہیں۔اور یہ داستان ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچی۔پاکستان میں احمدی مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ شیعہ اقلیت کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے وہ اس تلخ حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کروانے کے لئے کافی ہے۔یہ صورت حال متنبہ کر رہی ہے کہ جو شر انگیز مسئلہ مدتوں پہلے ختم ہو جانا چاہئے تھا وہ آج بھی جوں کا توں موجود ہے۔عیسائیوں نے بھی خود عیسائیوں پر ظلم توڑے ہیں۔اگر یورپ اور امریکہ کی تاریخ کے اوراق میں مدفون مذہبی ظلم وستم کے واقعات امتداد زمانہ کی وجہ سے ذہنوں سے محو ہو گئے ہوں تو صرف آئر لینڈ میں جاری مذہبی و سیاسی کشمکش کو ایک نظر دیکھ لینا کافی ہوگا۔دیگر خطوں میں بھی عیسائیت میں اندرونی فرقہ وارانہ کشمکش کے مخفی خطرات موجود ہیں اگر چہ فی الحال یہ علاقے بعض دیگر نوعیت کے جھگڑوں اور تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات، نائیجیریا میں عیسائیوں اور مسلمانوں کی کشمکش، مشرق وسطی میں یہود اور مسلمانوں کی جنگیں یا 55