اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 49
بہت بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے۔وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔اب میں آخر میں ایک انتہائی نازک اور حساس مسئلہ کی طرف آتا ہوں۔یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی نازک ہے کہ آج کل کے مسلمان توہین رسالت کے متعلق پہلے سے بڑھ کر حساس واقع ہوئے ہیں۔تاریخ اسلام میں مذہبی توہین کا ایک واقعہ ملتا ہے جو اس قدر سنگین ہے کہ خود قرآن کریم نے اسے ریکارڈ کیا ہے۔یہ واقعہ عبد اللہ بن اُبی بن سلول کے متعلق ہے جسے تاریخ اسلام میں رئیس المنافقین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ایک جنگی مہم سے واپسی کے دوران عبداللہ بن اُبی بن سلول نے بعض دوسرے لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ جونہی وہ مدینہ پہنچے گا تو وہاں کا سب سے معزز انسان وہاں کے سب سے ذلیل انسان کو مدینہ سے نکال باہر کرے گا۔قرآن کریم اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتا ہے۔يَقُولُونَ لَمِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْآعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ (سورة المنافقون آیت ۹) ترجمہ۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے تو ضرور وہ جوسب سے زیادہ معزز ہے اسے جو سب سے زیادہ ذلیل ہے اس میں سے نکال باہر کرے گا۔حالانکہ عزت تمام تر اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور مومنوں کی۔لیکن منافق لوگ جانتے نہیں۔اس فقرہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کی گئی گستاخی کو صحابہ کرام رضوان اللہ میم خوب سمجھ گئے تھے۔اور اس جسارت پر ان کا خون غصے سے کھول رہا تھا۔انہیں اس کا اس قدر رنج تھا کہ اگر ان کو اجازت ہوتی تو وہ یقینا عبداللہ بن 49 49