اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 50
أبي بن سلول کی تکا بوٹی کر کے رکھ دیتے۔مستند روایات میں بیان ہے کہ اس واقعہ پر صحابہ اس قدر مشتعل تھے کہ خود عبد اللہ بن اُبی بن سلول کے بیٹے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے باپ کو قتل کرنے کی اجازت مانگی۔اس نے عرض کی کہ اگر کسی اور نے میرے باپ کو قتل کر دیا تو ایسا نہ ہو کہ بعد میں جہالت کی وجہ سے میرے دل میں اپنے باپ کے قاتل کے خلاف انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھے۔اپنی یا اپنے قریبی رشتہ داروں کی معمولی سی بے عزتی کا انتقام لینا صدیوں سے عربوں کی تہذیب کا حصہ تھا۔انتقام کا یہی رواج تھا جو غالبا اس کے ذہن میں تھا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف ایسا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا بلکہ صحابہ میں سے کسی اور کو بھی اجازت نہ دی کہ اس منافق کو کسی قسم کی کوئی سزا دے۔(ابن اسحاق بحوالہ سیرۃ النبی مصنفہ ابن ہشام حصہ سوم ) چنانچہ اس جنگی مہم سے واپس مدینہ آ کر عبدالله بن أبي بن سلول بلاخوف وخطر زندگی بسر کرتا رہا۔بالآ خر جب وہ اپنی طبعی موت مرا تو سب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن اُبی بن سلول کے بیٹے کو اس کے باپ کے کفن کے لئے اپنا کرتہ عطا فرمایا۔یہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لئے خدا کی مغفرت مانگنے کا ایک نرالا انداز تھا۔صحابہ کرام کے دلوں میں اس وقت یہ خواہش ضرور پیدا ہوئی ہوگی کہ کاش وہ اپنا سب کچھ دے کر عبد اللہ بن اُبی بن سلول کے بیٹے سے وہ کر نہ اپنے لئے حاصل کر لیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر اکتفا نہیں کی بلکہ اس کی نماز جنازہ بھی خود پڑھانے کا فیصلہ فرمایا۔اس فیصلہ نے اکثر صحابہ کو یقینا حیران کر دیا ہوگا کیونکہ وہ عبد اللہ بن اُبی بن سلول کے اس سنگین جرم کو معاف نہیں کر پائے تھے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔آخر صحابہ کرام رضوان الله علیہم کے خاموش جذبات کی ترجمانی 50 60