اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 47
دشمنی کرتے ہوئے بغیر علم کے اللہ کو گالیاں دیں گے۔اس طرح ہم نے ہر قوم کو ان کے کام خوبصورت بنا کر دکھائے ہیں۔پھر ان کے رب کی طرف ان کو لوٹ کر جانا ہے۔تب وہ انہیں اس سے آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔یہ بات بطور خاص توجہ کے لائق ہے کہ اس آیت میں براہ راست مخاطب مسلمان ہیں۔مسلمانوں کو مشرکوں کے بتوں اور دیگر فرضی خداؤں کی توہین کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو مخالف لوگ ردعمل کے طور پر اللہ تعالیٰ کی اہانت کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی تو ہین اور بتوں کی توہین کی اس امکانی بحث میں دونوں صورتوں میں کوئی جسمانی سزا تجویز نہیں کی گئی ہے۔اس تعلیم میں جو عملی سبق دیا گیا ہے وہ بڑی گہری حکمت اپنے اندر رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا تا ہے تو دوسرے کو بھی ایسا کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے اور جب وہ جوابا ایسا ہی کرے گا تو پھر یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ وہ جس مذہب کی توہین کر رہا ہے وہ اپنی جگہ صحیح ہے یا غلط دونوں فریق جوابی کارروائی کرنے کا یکساں حق رکھتے ہیں۔پس نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر مذہبی جرم کا ارتکاب ہوا ہے تو اس کا بدلہ بھی اسی نوعیت کا لیا جائے گا۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی کو جسمانی اذیت دی گئی ہو تو اس کا بدلہ بھی جسمانی اذیت ہی ہوگا۔اگر چہ شرط یہ ہوگی کہ بدلہ لینے میں کسی قسم کی کوئی زیادتی روا نہ رکھی جائے۔قرآن مجید میں مذہبی اہانت کا ذکر حضرت مریم اور حضرت مسیح علیہما السلام کے تعلق میں بھی آیا ہے۔وَبِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهِتَانًا عَظِيمًا ( سورة النساء آیت ۱۵۷) ترجمہ۔نیز ان کے کفر کی وجہ سے اور ان کے مریم کے خلاف ایک بہت 47