اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 46

ترجمہ۔اور جب تو دیکھے ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے تمسخر کرتے ہیں تو پھر ان سے الگ ہو جا یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں۔اور اگر کبھی شیطان تجھ سے اس معاملہ میں بھول چوک کروا دے تو یہ یاد آجانے پر ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھ۔مذہبی تقدس کی اہانت کس قدر مکروہ اور بھیانک فعل ہے مگر اس کے خلاف کیسا حسین رد عمل پیش کیا گیا ہے۔ایک تو اسلام کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ مذہب کی توہین کرنے والے کو سزا دینے کا کام اپنے ہاتھوں میں لے لے۔دوسرے وہ یہ بھی اعلان کرتا ہے کہ ایسی حرکت کے خلاف احتجاج کے طور پر ان لوگوں کی مجلس سے اٹھ کر باہر آجانا چاہئے جہاں مذہبی اقدار کا مذاق اڑایا جا رہا ہو اور تمسخر اور استہزاء سے کام لیا جا رہا ہو۔ایسے لوگوں کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھانا تو درکنار قرآن کریم نے ان سے مستقل طور پر قطع کلامی کا حکم بھی نہیں دیا۔قرآن کریم نے خوب کھول کر بتا دیا ہے کہ ایسے لوگوں سے علیحدگی صرف اس عرصہ کے دوران ہوگی جس میں وہ اہانت کے مرتکب ہو رہے ہوں۔پھر سورۃ الانعام کی ایک اور آیت میں بھی اہانت کا ذکر ہے جس میں صرف خدا تعالی کی شان ہی میں گستاخی کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ بتوں اور دیگر فرضی معبودوں کی تو ہین کا سوال بھی امکانی طور پر زیر بحث لایا گیا ہے۔اس آیت کی تلاوت کرتے وقت انسان قرآنی تعلیم کے حسن کو دیکھ کر مسحور ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔وده وده وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ، ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ص (سورۃ الانعام آیت (۱۰۹) ترجمہ۔اور تم ان کو گالیاں نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ورنہ وہ 46