اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 45

لیکن میں نے قرآن کریم کا بار بار گہری توجہ کے ساتھ وسیع مطالعہ کیا ہے مجھے ایک آیت بھی ایسی نہیں ملی جس میں مذہبی اہانت کو ایسا جرم قرار دیا گیا ہو جس کی سزا دینا کسی انسان کے اختیار میں ہو۔اگر چہ قرآن کریم کسی بھی قسم کی ناشائستہ حرکت اور ایسے بیہودہ قول و فعل کی اجازت نہیں دیتا جس سے دوسروں کے نازک جذبات مجروح ہوتے ہوں۔لیکن بایں ہمہ قرآن کریم نہ تو گستاخی اور اہانت کی اس دنیا میں کوئی سزا تجویز کرتا ہے اور نہ ہی اس بارہ میں کسی انسان کو سزا دینے کا کوئی اختیار دیتا ہے۔مذہبی تقدس کی پامالی کا قرآن کریم میں پانچ جگہ ذکر آیا ہے۔عمومی رنگ میں یہ مضمون اس آیت میں یوں بیان ہوا ہے۔وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَبِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيَسْتَهْرَا بِهَا ہووہ۔(سورۃ النساء آیت ۱۴۱) فَلا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثِ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذَا مِّثْلُهُمْ إِنَّ اللهَ جَامِعَ الْمُنفِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا ترجمہ۔اور یقیناً اس نے تم پر کتاب میں یہ حکم اتارا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے یا ان سے تمسخر کیا جا رہا ہے تو ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور بات میں مصروف ہو جائیں۔ضرور ہے کہ اس صورت میں تم معا ان جیسے ہی ہو جاؤ۔یقینا اللہ سب منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے۔وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوضُونَ فِى ابْتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيْثِ ط - وه غَيْرِهِ وَإِمَّا يَنسِينَّكَ الشَّيْطَنُ فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (سورۃ الانعام آیت ۶۹) 45