اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 37
کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کا باعث بھی بنے۔یا ایک عالمگیر پیغام کا حامل کوئی بھی مذہب جو تمام بنی نوع انسان کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنا چاہتا ہو، اپنے پیغام کی اشاعت کے لئے طاقت کا استعمال کرے۔تلوار سے عارضی فتوحات تو ہوسکتی ہیں مگر دل فتح نہیں کئے جا سکتے۔طاقت سے سر تو جھکائے جا سکتے ہیں مگر دلوں پر حکومت نہیں کی جاسکتی۔اسلام اپنے پیغام کی اشاعت کی خاطر کسی قسم کے جبر کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ : ج لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (سورة البقره آیت ۲۵۷) ق ترجمہ۔دین میں کوئی جبر نہیں۔یقینا ہدایت گمراہی سے کھل کر نمایاں ہو چکی۔پس جب ہدایت اور گمراہی کا فرق خوب واضح ہو چکا تو دین میں جبر کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ہر انسان کو اختیار دینا چاہئے کہ وہ دیکھے اور خود فیصلہ کرے کہ سچائی اور ہدایت کہاں ہے۔خدا تعالیٰ رسول مقبول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے متنبہ فرماتا ہے کہ اصلاح معاشرہ کی کوشش کرتے وقت طاقت کے استعمال کا خیال بھی دل میں نہ آنے دیں۔اسی طرح مندرجہ ذیل آیت میں بحیثیت ایک مصلح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب اور مقام کو پوری وضاحت سے بیان کر دیا گیا ہے۔فَذَ َكرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَرَه لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِر 0 ( سورۃ الغاشیہ آیات ۲۲۔۲۳) ترجمہ۔پس بکثرت نصیحت کر۔تو محض ایک بار بار نصیحت کرنے والا ہے۔تو ان پر داروغہ نہیں۔37