اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 30
قبل یا اس سے بھی پہلے زمانہ کے لوگوں کے لئے تھیں؟ اور اگر کسی ایک مذہب کو عالمگیر سطح پر قبول کر بھی لیا جائے تو کیا ایسا مذہب آنے والی نسلوں کی ضروریات کو پورا کر بھی سکے گا یا نہیں۔اب یہ ہر مذہب کے پیروکاروں کا کام ہے کہ وہ بتائیں کہ ان کے مذہب کی تعلیمات کی رو سے ان مسائل کا جنکا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کیا حل ہے؟ اسلام ان مسائل کا جو حل پیش کرتا ہے میں اسے بہت اختصار کے ساتھ بیان کرنا چاہوں گا۔اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے قرآن مجید نے بار بار اس امر کو واضح کیا ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جسکی تعلیمات فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں۔اسلام نے اس امر پر زور دیا ہے کہ جس مذہب کی جڑیں انسانی فطرت میں پیوست ہوں وہ زمان و مکان کی حدود سے بالا ہوتا ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ انسانی فطرت بنیادی طور پر کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ جو مذہب فطرت کے مطابق ہوگا اس میں اصولاً یہ صلاحیت موجود ہوگی کہ وہ آفاقی مذہب بن سکے بشرطیکہ وہ انسانی ترقی کی کسی عارضی منزل اور وقتی حالت میں حد سے زیادہ الجھ کر خود ہی اپنے آپ کو محدود نہ کرلے۔پس جو مذہب ان اصولوں پر قائم ہے جو فطرت انسانی سے پھوٹتے ہیں اس میں منطقی طور پر یہ استعداد موجود ہوگی کہ وہ ایک عالمگیر مذہب بن سکے۔اسلام نے تو اس سے بھی ایک قدم اور آگے بڑھ کر اپنی منفرد بصیرت اور بالغ نظری کی وجہ سے یہاں تک تسلیم کیا ہے کہ تمام مذاہب ایک حد تک آفاقیت کا عنصر اپنے اندر ضرور رکھتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہر مذہب میں ایک بنیادی اور مرکزی تعلیم 30 30