اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 31

ایسی ضرور ہوتی ہے جو ابدی صداقتوں پر مشتمل اور فطرت انسانی کے عین مطابق ہوا کرتی ہے۔مذاہب کی تعلیمات کا یہ مرکزی اور بنیادی حصہ تبدیل نہیں ہوتا تا وقتیکہ ان مذاہب کے پیروکار بعد کے کسی زمانے میں اسکو بگاڑ نہ دیں۔قرآن مجید کی درج ذیل آیات سے یہ نکتہ خوب واضح ہو جاتا ہے۔وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَوةَ وَ ذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ D (سوره البیه آیت ۶) ترجمہ۔اور وہ کوئی حکم نہیں دیئے گئے سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے ہمیشہ اس کی طرف جھکے ہوئے۔اور نماز کو قائم کریں۔اور زکوۃ دیں۔اور یہی قائم رہنے والی تعلیمات کا دین ہے۔فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّين حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ( سورة الروم آیت ۳۱) ترجمہ۔پس (اللہ کی طرف) ہمیشہ مائل رہتے ہوئے اپنی توجہ دین پر مرکوز رکھ۔یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں۔یہ قائم رکھنے والا اور قائم رہنے والا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ان آیات کی روشنی میں ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تمام مذاہب بنیادی طور پر ایک ہی تعلیم پر مشتمل تھے تو پھر یکے بعد دیگرے ان مذاہب کو بھیجتے چلے جانے میں کیا حکمت پوشیدہ تھی؟ مزید برآں یہ کہ اگر تمام مذاہب ایک جیسی نا قابل تغیر اور آفاقی تعلیم کے حامل تھے تو پھر اسلام دیگر مذاہب کے بالمقابل زیادہ مکمل اور عالمگیر 31 4