اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 28
کے ساتھ (لوگوں کو ) ہدایت دیتے تھے اور اسی کے ذریعہ سے انصاف کرتے تھے۔مذہب کے عالمگیر ہونے کا نظریہ زمانہ قدیم سے حکماء اور فلسفی اس وقت کا خواب دیکھتے رہے ہیں جب تمام بنی نوع انسان ایک ہی خاندان کی طرح ہو جائیں گے۔نوع انسانی کے اتحاد کا یہ تصور صرف سیاسی مفکرین تک ہی محدود نہیں بلکہ اقتصادی اور معاشرتی علوم کے ماہرین بھی اس نہج پر سوچتے رہے ہیں۔مذہبی دنیا میں بھی یہ نظریہ پورے جوش و خروش کے ساتھ موجود رہا ہے۔بعض مذاہب تو عالمی غلبہ اور تسلط کی تمنا لئے بڑی شدت سے مصروف عمل ہیں اور اس کے لئے انہوں نے زبردست منصوبے بھی بنائے ہیں۔اسی طرح اسلام بھی ساری دنیا کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنا چاہتا ہے۔اگر چہ اسلام اور دیگر مذاہب میں بظاہر ایک نظریاتی اشتراک تو ضرور دکھائی دیتا ہے لیکن اسلام کا موقف اس ضمن میں دوسروں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔یہاں یہ بحث اٹھانے کا موقع نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنے کا کام کس مذہب کے سپرد کیا ہے البتہ یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک سے زائد مذاہب کی طرف سے ایسے دعوئی کے مضمرات اور ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔اگر دو تین یا چار مذاہب جن کا تاریخی پس منظر بہت طویل ہے بیک وقت خود کو ان معنوں میں عالمگیر قرار دیں تو کیا یہ بات لوگوں کو ایک ذہنی الجھن اور بے یقینی میں مبتلا نہیں کر دے گی؟ کیا مذاہب کی باہمی عداوت اور عالمگیر غلبہ حاصل کرنے کی امن عالم کیلئے ایک سنگین خطرہ نہیں بن جائے گی ؟ مختلف مذاہب کی طرف سے ایسی جد و جہد 28