اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 27
یہ خیال غلط ہے کہ اسلام کے نزدیک تمام یہود جہنمی ہیں۔یہ تصور اس دور میں یہودیوں اور مسلمانوں کی باہمی سیاسی کشمکش کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔قرآن کریم کی جو آیات میں بیان کر چکا ہوں ان کی روشنی میں ایسا خیال بالکل غلط ثابت ہو جاتا ہے۔میرے اس موقف کی مندرجہ ذیل آیت بھی تائید کرتی ہے۔° ° وه آ وه ده وه ومن قومِ موسى امة يهدونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ (سورۃ الاعراف آیت ۱۶۰) ترجمہ۔اور موسیٰ کی قوم میں بھی کچھ ایسے لوگ تھے جو حق کے ساتھ لوگوں کو ) ہدایت دیتے تھے اور اسی کے ذریعہ سے انصاف کرتے تھے۔مذاہب کے مابین ہم آہنگی اور باہمی احترام کا فروغ قرآن کریم میں واضح طور پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ صرف مسلمان ہی صداقت کے علمبر دار نہیں ہیں بلکہ صداقتوں کے حامل اور لوگ بھی ہیں۔اور صرف مسلمان ہی نہیں جو تقویٰ کے ساتھ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان انصاف کرتے ہیں بلکہ ایسی صفات اور لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔مذاہب کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے یہی طرز فکر ہے جو پوری دنیا کو لازما اختیار کرنا چاہئے۔دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ ایسی وسیع النظری فراخ دلی اور ہمدردی کے ساتھ افہام و تفہیم کو فروغ دیئے بغیر مذہبی امن کا قیام ممکن نہیں قرآن مجید جملہ مذاہب عالم کا عمومی ذکر کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے۔وممن خلقنا امة يهدونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ (سورۃ الاعراف آیت ۱۸۲) ترجمہ۔اور ان میں سے جنہیں ہم نے پیدا کیا ایسے لوگ بھی تھے جو حق ہے۔27