اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 314

نہ ہونے سے جو خلا پیدا ہو گا اسے پُر کرنے کے لئے فوراً انسان کی انا سامنے آ جائے گی یہ ایک نادانی کی بات اور بے حد جاہلانہ فلسفہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے بغیر رہ سکتا ہے۔بالآخر دہریت کا نتیجہ صرف یہی نہیں نکلتا کہ بقول شخصے خدا مر جاتا ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں اچانک ہزارہا جھوٹے خدا زندہ ہو جاتے ہیں۔ہر وہ ذات جو شعور رکھتی ہے آن واحد میں اپنے زعم میں خدا بن جاتی ہے۔آنا اور انتہا درجہ کی خود غرضی طاقت پکڑ لیتی ہے اور اس کی حکمرانی ہو جاتی ہے۔ایسے افراد پر مشتمل معاشرہ بھی ہمیشہ انا پرست اور خود غرض رہتا ہے بے لوث ہو کر دوسروں کیلئے نفع رساں بنے کی کوئی منطق ہی باقی نہیں رہتی۔ایک رحیم و کریم خدا کی شکل میں کوئی بیرونی حوالہ ہی باقی نہیں رہتا جو تمام انواع کی مخلوقات کو باہم متحد رکھنے اور یکجا کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔اس سے بڑھ کر اسلام کا کوئی اور فلسفہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر کوئی فرد حقیقی اطمینان حاصل نہیں کر سکتا اور حقیقی اطمینان کے بغیر معاشرہ امن و آشتی کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔قیام امن کے لئے تمام ایسی کوششیں جن کا محرک ذاتی اغراض ہوں یقیناً نا کام اور بے نتیجہ رہتی ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ موجود نہیں تو پھر امن بھی نہیں اور اس حقیقت کا شعور ہی دراصل دانائی کا کمال ہے۔314