اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 313
جب تک کہ وہ ان سمندروں کی طرف واپس نہ لوٹ جائے جہاں اس نے جنم لیا تھا بالکل ایسے ہی انسان کا دل کبھی اطمینان نہیں پا سکتا تا وقتیکہ وہ روحانی طور پر اپنی پیدائش کے منبع و ماخذ تک نہ لوٹ جائے۔مندرجہ ذیل آیت کے یہی معنی ہیں: الَّذِينَ امَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بذِكْرِ اللهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (سورۃ الرعد آیت ۲۹) ترجمہ :۔وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔سنو! اللہ ہی کے ذکر سے دل اطمینان پکڑتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کوئی امن نصیب نہیں ہو سکتا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کوئی امن نصیب نہیں ہوسکتا یہی وہ راز ہے جس کو جانے بغیر نہ تو انسان کو اطمینان قلب نصیب ہو سکتا ہے اور نہ ہی معاشرہ میں امن وسکون کی ضمانت دی جا سکتی ہے حقیقی امن اور اطمینان تک لے جانے والا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت ہی ہے جس کے نتیجہ میں اس کی مخلوق کا سچا احترام دل میں پیدا ہوسکتا ہے۔مخلوق جس قدر اعلیٰ درجہ کی ہوگی اسی قدر وہ خالق کے قریب تر ہو گی اور اس کا تعلق اپنے خالق سے اتنا ہی مضبوط تر ہو گا۔انسان ایک عظیم تر اور اعلی تر مقصد کے ساتھ دوسرے انسانوں کا احترام کرنا شروع کر دیتا ہے یعنی اپنے خالق کے احترام کی وجہ سے اس پر جو فرض عائد ہوتا ہے اس کے باعث وہ انسانیت کا احترام کرنا شروع کر دیتا ہے۔خلاصہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہے جو اس کی مخلوق کی محبت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اگر درمیان سے اللہ تعالیٰ کی محبت نکال دی جائے تو دفعتاً انسانی تعلقات کا سارا منظر ہی بدل جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے 313