اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 312 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 312

ہے۔مختصر یہ کہ انسان کو مخلوقات میں سب سے نچلے درجہ کی مخلوق قرار دے کر اسے ہر اُس چیز کا مطیع اور خادم بنا دیا جاتا ہے جو محض اس کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی تھی۔نظام کائنات کا جو عرفان اسلام نے عطا فرمایا ہے اس کے مطابق انسان مخدوم ہے اور باقی ساری کائنات اس کی خادم ہے اس لحاظ سے ساری کائنات میں انسان ہی اپنے خالق کے احسانات کا سب سے بڑھ کر مورد ہے۔پس اسے سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کا شکر گزار اور احسان مند بھی ہونا چاہیئے جس کی خدمت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات کو مسخر کر دیا ہے۔بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ کی غلامی میں آ کر انسان ہر دوسری غلامی سے رہائی پالیتا ہے۔انسان ساری کائنات کے شعور اور ضمیر کی علامت اور اس کی تجسیم ہے۔جب انسان خالق کے سامنے سر بسجود ہوتا ہے تو گویا ساری کائنات خالق کے حضور سجدہ ریز ہو جاتی ہے اور جب انسان اپنے خالق کی طرف رجوع کرتا ہے تو گویا کل کائنات اپنے خالق کی طرف لوٹتی ہے۔اسلام کے نزد یک اسی مقصد کے حصول اور اس کے مطابق انسانی زندگی کو ڈھالنے میں حقیقی اور کامل امن پوشیدہ ہے۔اس سارے فلسفہ کو قرآن کریم کی اس آیت میں جسے مسلمان بکثرت دوہراتے رہتے ہیں نہایت اختصار کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے: 1۔۔۔۔۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعونَ (سورۃ البقرۃ آیت ۱۵۷) ترجمہ :۔ہم یقینا اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقیناً اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔بہت کم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں لوٹنے سے جسمانی طور پر نہیں بلکہ روحانی طور پر لوٹنا مراد ہے اور یہ آیت صرف امر واقعہ کو بیان نہیں کرتی بلکہ انسان کو اس کا مقصد حیات بھی یاد دلاتی ہے۔جیسے Salmon مچھلی کو اس وقت تک چین نہیں آتا 312