اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 305

کسی سے یہ بھی نہیں کہتا تھا کہ یہ چابک اٹھا کر مجھے دے دو۔(صحیح مسلم - كتاب الزكاة - باب كراهة المسئلة للناس) خدمت خلق پر جو اتنا زور دیا گیا ہے تو یہ کوئی محض خشک زاہدانہ تعلیم نہیں ہے بلکہ انسانی رویوں میں لطافت اور شائستگی پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے تا کہ اس میں اعلیٰ اقدار کا ذوق پروان چڑھے۔اگر ایک بار اس قسم کا اعلیٰ ذوق پیدا کر دیا جائے تو بآسانی یہ تربیت بھی کی جاسکتی ہے کہ انسان خدمت ہی میں لذت محسوس کرنے لگے بجائے اس کے کہ وہ دوسروں کے احسانات اور رحم وکرم کا منتظر رہے۔مخلوق خدا کی خدمت نصف ایمان ہے۔اسلام کا موقف بھی یہی ہے کہ نیکی بجائے خود ایک انعام ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو منطق اور دلائل سے بالا ہے۔اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔رضائے باری تعالیٰ کا حصول اسلام انسانی کردار میں محض اعلیٰ اقدار پیدا کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ یہ شعور بھی پیدا کرتا ہے کہ اصل اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی شخص کی نیکیوں کی قدر و منزلت کیا ہے۔اس امر پر زور دینے سے اس انسانی خواہش کا بھی سد باب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان چاہتا ہے کہ لوگ اس کی نیکیوں کو سرا ہیں لیکن ایک حقیقی مومن کے لئے تو اتنا یقین ہی کافی ہے کہ اس کے اچھے اور بُرے تمام اعمال خبیر اور بصیر خدا کی نظر میں ہیں۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔يَوْمَئِذٍ تُحَدِّتْ أَخْبَارَهَا بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا هِ يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرَّايَرَه 305 (سورۃ الزلزال آیات ۵ تا ۹)