اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 18
گیا ہے۔اور یہ آیت اس اعلان پر مشتمل ہے کہ آپ کی تعلیمات ہر لحاظ سے مکمل اور آخری ہیں۔فرمایا: وو الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دينا۔(سورۃ المائدہ آیت ۴) ترجمہ۔آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر میں نے اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور میں نے اسلام کو تمہارے لئے دین کے طور پر پسند کر لیا ہے۔اس دعوی سے واضح طور پر یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء میں سے اکمل ترین تعلیم دینے والے ہیں اور آپ سب نبیوں میں بلند ترین مقام پر فائز ہیں۔اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہ یقین دلایا ہے کہ جو کتاب آپ پر نازل کی جارہی ہے اس کی حفاظت کی جائے گی۔اس کے متن کو انسانی دست برد سے محفوظ رکھا جائے گا۔اور یوں دراصل یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نہ صرف قرآنی تعلیم ہر لحاظ سے مکمل ہے بلکہ یہ اپنی اصل شکل میں ہمیشہ قائم رہنے والی بھی ہے۔جس سے مراد یہ ہے کہ جن الفاظ میں یہ تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے بعینہ انہی الفاظ میں یہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گی اور قسم کی تحریف کا شکار نہیں ہوگی۔چنانچہ گزشتہ چودہ سو سال کی تاریخ اس دعوی کی صداقت پر گواہ ہے۔قرآن کریم کی حفاظت کے سلسلہ میں آیات میں سے مندرجہ ذیل بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ، لَحْفِظُوْنَ ( سورة الحجر، آیت ۱۰) ترجمہ۔یقینا ہم نے ہی یہ ذکر اتارا ہے اور یقینا ہم ہی اس کی حفاظت 18