اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 286

ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔میں یہ دعویٰ تو نہیں کرتا کہ میں نے دنیا کے تمام بڑے بڑے مذاہب کے متعلق سب کچھ مطالعہ کر رکھا ہے مگر میں ان مذاہب کی تعلیمات سے بالکل لاعلم بھی نہیں ہوں۔مجھے ان مذاہب کی کتب میں کوئی ایک بھی ایسا حکم نہیں ملا جو اس قرآنی آیت کے معیار پر پورا اترتا ہو۔دیگر مذہبی کتب کا تو یہ حال ہے کہ ان میں بین الاقوامی تعلقات کا ذکر شاذ و نادر کے طور پر ہی ملتا ہے تاہم اگر کسی اور مذہب میں بھی ایسی ہی تعلیم پائی جاتی ہو تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسلام اس تعلیم سے پورے طور پر اتفاق کرتا ہے کیونکہ یہی وہ تعلیم ہے جو عالمی امن کے سلسلہ میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔آج ساری دنیا امنِ عالم کے مستقبل کے متعلق فکر مند ہے۔سوشلسٹ دنیا میں رونما ہونے والے عہد ساز تغیرات اور عالمی طاقتوں کے باہمی تعلقات میں بہتری سے امید کی ہلکی سی جھلک نظر آتی ہے۔لوگ بڑے خوش دکھائی دے رہے ہیں۔ہمارے ارد گرد جو انقلابی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں ان کے ممکنہ نتائج کے بارہ میں دنیا بھر کے سیاسی راہنما نہ صرف انتہائی پر امید ہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ خوش نظر آ رہے ہیں خصوصیت سے مغربی دنیا تو کچھ زیادہ ہی پر اعتماد ہے اور خوشی سے پھولی نہیں سما رہی۔امریکیوں کی تو باچھیں کھلی جا رہی ہیں انہیں اپنے جذبات مسرت کو سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔وہ اشترا کی دنیا پر اپنی اس عظیم الشان فتح کے شادیانے بجا 286