اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 285

وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةٌ فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوْآءِ ، إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْخَائِنِينَ (سورۃ الانفال آیت ۵۹) ترجمہ:۔اور اگر کسی قوم سے تو خیانت کا خوف کرے تو ان سے ویسا ہی کر جیسا انہوں نے کیا ہو۔اللہ خیانت کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے طریق پر حکومت نہ کرو جس کے نتیجہ میں فتنہ وفساد بڑھے اور عوام کے مصائب و مشکلات میں اضافہ ہو۔حکومت کا فرض ہے کہ وہ مؤثر اور مثبت رنگ میں محنت کرے یہاں تک کہ معاشرہ ہر لحاظ سے امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے۔ه و امنْ يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ عَ W 28 إِلهُ مَّعَ اللَّهِ ، قَلِيلًا مَّاتَذَكَّرُونَ (سورۃ النمل آیت ۶۳ ) ترجمہ:۔یا (پھر) وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کا وارث بناتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور ) معبود ہے؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد کامل انصاف پر ہے حقیقت یہ ہے کہ آج ہر سیاست دان چھوٹا ہو یا بڑا اس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات کی راہنمائی کا محتاج ہے۔اسلام ہی وہ مذہب ہے جس میں بین الاقوامی معاملات کی بنیاد کامل عدل و انصاف پر رکھی گئی ہے۔چنانچہ فرمایا۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُوْنُوْا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا وَ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ قف ده (سورة المائدة آیت ۹) 285